The news is by your side.

Advertisement

یورپین پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بحث آج ہوگی

برسلز : یورپی پارلیمنٹ میں پہلی بار مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پربحث آج ہوگی، انسانی حقوق کےنمائندےکشمیریوں پر بھارتی مظالم پر بریفنگ دیں گے جبکہ یورپی یونین کی خارجہ کمیٹی کی تجاویز پربھی تبادلہ خیال ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق یورپی پارلیمنٹ میں پہلی بار مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پربحث آج ہوگی، اسٹراسبرگ یورپین پارلیمنٹ کے پہلے پلینری سیشن میں مقبوضہ کشمیر کو زیر بحث لایا جائے گا۔

اجلاسس یورپین مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے جبکہ پاکستان کے ٹائم کے مطابق شام چھ بجے شروع ہوگا، اس سیشن میں سات سو اکاون اراکین یورپی پارلیمنٹ بحث میں شامل ہوں گے جبکہ ہائی کمشنر سمیت یورپین وزارت خارجہ کی سربراہ فیڈریکا مغرینی بھی اس میں شامل ہوگی، کمشنر کا عہدہ فیڈرل منسٹر کے برابر ہوتا ہے۔

خصوصی طور پر سوشلسٹ ڈیموکریٹ اور لبرل گروپ کے اراکین مقبوضہ کشمیر کی نازک صورتحال پر ایک قرارداد کے خواہشمند ہیں اسی کے ساتھ انسانی حقوق کی زیلی پارلیمنٹری کمیٹی انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

پارلیمنٹ میں موجود بایاں اور دایاں بازو اور سینٹرل جماعتیں سب ہی مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی تنسیخ کے نقاد ہیں۔

پارلیمنٹ کی دو ستمبر سے لے کر اب تک کی سرگرمیوں میں ایک بات واضح ہے کی سوائے انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے سب ہی کرفیو اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کے متقاضی ہیں۔

پارلیمانی کارروائی میں یورپین کمیشن کی وائس چیئرمین اور یورپین وزارت خارجہ کی سربراہ فیڈریکا موگرینی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اپنا مؤقف پیش کریں گی۔

مزید پڑھیں : بھارت مقبوضہ کشمیر سے فوری کرفیو ختم کرے، یورپی پارلیمنٹ کا مطالبہ

خیال رہے مسئلہ کشمیر کو یورپی پارلیمنٹ کو زیربحث لانے میں پاکستانی نژاد یورپی ارکان پارلیمنٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے، رکن یورپی پارلیمنٹ شفق محمد مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے پر لانے کے لئے متحرک رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کشمیر ایک عالمی مسئلہ ہے۔

یاد رہے 2 ستمبر کو یورپی پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو بھانپتے ہوئے مودی سرکار سے وادی نافذ کرفیو فی الفور اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔

یورپی پارلیمنٹ نے مقبوضہ وادی میں جاری لاک ڈاؤن تمام مواصلاتی ذرائع کی معطلی اور ذرائع ابلاغ پر عائد پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت پر شدید تنقید کی اور کہا تھا کہ ہم مودی حکومت کی ظالمانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں جن سے مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں