The news is by your side.

Advertisement

یورپین پارلیمنٹ کا آنگ سان سوچی کو دیا گیا انسانی حقوق کا ایوارڈ واپس لینے کا مطالبہ

لندن : یورپین پارلیمنٹ میں بھی آنگ سان سوچی کو دیا گیا انسانی حقوق کا ایوارڈ سخار وو واپس لینے کا مطالبہ کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق میانمار کی حکمراں جماعت کی سربراہ آنگ سان سوچی سے ایوارڈز واپس لینے کا مطالبہ دنیا بھر میں زور پکڑنے لگا، یورپین پارلیمنٹ میں بھی آنگ سان سوچی کو دیا گیا انسانی حقوق کا ایوارڈ سخارو واپس لینے کا مطالبہ کردیا گیا۔

سجاد کریم نے پارلیمنٹ کے ابتدائی سیشن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھائے جارہے ہیں، جس کے باعث تین لاکھ متاثرین بے سر و سامانی کی حالت میں ہجرت کرکے بنگلہ دیش چلے گئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ سوچی نے مظالم رکوانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر سوچی کی خاموشی اسے دیے گئے انسانی حقوق کے ایوارڈ کی توہین ہے، لہذا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر سوچی کو دیے گئے ایوارڈ کے معاملے پر نظرثانی کی جائے۔


مزید پڑھیں : آنگ سانگ سوچی سے نوبیل انعام واپس لینے کا مطالبہ، آن لائن پیٹیشن پر3 لاکھ سے زائد افراد کے دستخظ


یاد رہے کہ اس سے قبل آن لائن پیٹیشن میں سوچی سے نوبل پرائز واپس لینے کا مطالبہ کردیا، سوچی سے نوبل انعام واپس لینے کی پیٹیشن پراب تک تین لاکھ سے زائد افراد دستخط کرچکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

یاد رہے کہ اگست میں میانمار حکومت کی جانب سے اگست میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا، فسادات میں برما کی آرمی اور بودھوں نے 0100 روہنگیا مسلمانوں کو قتل کردیا، تین لاکھ سترہزار روہنگیا بنگلہ دیش ہجرت کرنے پرمجبور ہوئے جبکہ 2800گھرجلا دئیے گئے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں