The news is by your side.

Advertisement

دولما باغچہ محل: سلطنتِ عثمانیہ کی ایک خوب صورت یادگار

ترکی کا شہر استنبول تاریخِ عالم میں حکم راںی کے مختلف ادوار اور طاقت و اختیار کے مرکز کے طور پر ہی نہیں‌، تہذیب و تمدّن اور فنون کی وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے اور قدیم و تاریخی آثار اور یادگاروں کے لیے بھی مشہور ہے۔

سیروسیّاحت کے لیے مشہور اس شہر میں‌ کئی قدیم اور تاریخی عمارتیں بھی موجود ہیں جو اپنے دور کے طرزِ تعمیر کا شاہ کار ہیں۔ ان عمارات میں‌ کئی محلّات اور قلعے بھی شامل ہیں جو اس زمانے کے صناع اور کاری گروں کی یاد بھی دلاتے ہیں۔ انہی میں ایک دولما باغچہ محل یا دولمہ باغچہ سرائے بھی شامل ہے جو 1853ء سے 1922ء تک سلطنتِ عثمانیہ کا انتظامی مرکز رہا ہے۔ یہ محل استنبول کے یورپی حصّے میں آبنائے باسفورس کے کنارے پر واقع ہے۔

دولما باغچہ کو استنبول کا پہلا یورپی طرز کا محل کہا جاتا ہے جسے سلطان عبد المجید اوّل کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس محل کی تعمیر کا سلسلہ 1842ء میں شروع ہوا تھا، اور 1853ء میں یہ کام مکمل کیا گیا جس پر 35 ٹن سونے کی مالیت کے برابر رقم خرچ ہوئی۔صرف محل کی چھت کی سجاوٹ میں 14 ٹن سونا استعمال ہوا۔

اس محل کے مرکزی ہال میں ایک بڑا فانوس نصب کیا گیا ہے جو برطانیہ کی ملکہ وکٹوریا نے تحفتاً پیش کیا تھا۔ اس فانوس میں 750 چراغ ہیں۔ کرسٹل کا یہ فانوس 4 اعشاریہ 5 ٹن وزنی ہے۔ محل کے مختلف حصّوں میں بھی متعدد فانوس موجود ہیں‌ جو اس کا حُسن اور خوب صورتی بڑھاتے ہیں۔

دولما باغچہ دراصل باسفورس کی ایک خلیج اور کھاڑی تھی جسے پُر کرکے شاہی باغ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس محل کے نام سے ظاہر ہے کہ اس کی تعمیر ایک کھاڑی کو پُر کرکے ممکن بنائی گئی۔ دولما کا معنٰی “پُر کیا گیا” اور باغچہ سے مراد ایک چھوٹا باغ ہے جسے ہم “باغیچہ” کہتے ہیں۔

دولما باغچہ محل کو بعد میں‌ ایک عجائب گھر کا درجہ دے دیا گیا۔ جدید ترکی کے بانی اور پہلے صدر مصطفٰی کمال اتاترک نے اسی محل میں اپنی زندگی کے آخری ایّام بسر کیے تھے۔

اس محل کو ماہرینِ تعمیر غرابت امیرا بلیان اور ان کے صاحبزادے نگوگایوس بلیان نے تعمیر کیا جو آرمینیائی ترک تھے۔ اس محل کے تین بڑے حصّے ہیں جن میں اس دور کے رسم و رواج اور شاہی تقاضوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور ایک حصّہ مردوں کی رہائش گاہ، دوسرا دربار کے لیے مخصوص تھا جب کہ تیسرا سلطان کے اہلِ خانہ کی قیام گاہوں پر مشتمل ہے۔ دولما باغچہ 45 ہزار مربع میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں 285 کمرے اور 46 درباری ہال ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں