The news is by your side.

Advertisement

وردی میں نہیں ہوتا تب بھی مسلمان نوجوان کی جان بچاتا، بھارتی سکھ پولیس افسر

نئی دہلی: بھارتی ریاست اترکھنڈ کے پولیس افسر گگن دیپ سنگھ نے کہا ہے کہ ’اگر وہ پولیس کی وردی میں نہیں ہوتا تب بھی مسلمان نوجوان کی جان بچاتا۔ کسی انسان کی جان بچانے میں مذہب درمیان میں نہیں آنا چاہیئے۔

تفصیلات کے مطابق چند روز قبل بھارتی ریاست اترکھنڈ میں اپنی جان پر کھیل کر ایک مسلمان نوجوان کو ہندو انتہاپسندوں کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچانے والے سکھ پولیس افسر گگن دیپ سنگھ نے کہا ہے کہ ’وہ بس اپنی ذمہ داری نبھارہا تھا‘۔

سکھ پولیس افسر گگن دیپ سنگھ کا کہنا تھا کہ ’اگر وہ پولیس وردی میں نہیں ہوتا تب بھی وہ اس مسلمان نوجوان کی جان بچاتا اور ہر ہندوستانی کو یہ کام کرنا چاہیئے‘۔

واضح رہے کہ بھارتی ریاست اترکھنڈ میں ہندو انتہاپسندوں کے ہاتھوں مسلمان لڑکے کو قتل ہونے سے بچانے والے سکھ پولیس آفیسر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس کے بعد گگن دیپ سنگھ کو اتر کھنڈ کا ہیرو کہا جارہا ہے۔

سکھ پولیس افسر گگن دیپ سنگھ نے بھارتی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی انسان کی زندگی بچانے میں کیا مسئلہ ہے، کسی کی جان بچانے میں مذہب کو درمیان میں نہیں آنا چاہیئے‘۔

گگن دیپ کا کہنا تھا کہ ’اگر میں اس نوجوان کی جان نہیں بچا پاتا تو میں اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں ناکام رہتا‘۔

گگن دیپ سنگھ نے حادثے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مسلمان لڑکا رام نگر مندر کے پاس ایک لڑکی کے ساتھ بیٹھا تھا، کہ کچھ مقامی افراد نے دونوں کے اکھٹے بیٹھنے پر تنقید کی جس کے بعد ان کے گرد مجمع جمع ہوگیا اور نوجوان لڑکے کو پیٹنا شروع کردیا۔ خوش قسمتی سے میں موقع پر موجود تھا اور فوری طور پر لڑکے کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا تاکہ کوئی اسے مار نہ سکے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ ہندو لڑکی نے مشتعل شخص سے کہا کہ مسلمان لڑکے کو کیوں مار رہے ہو جس پر مشتعل شخص نے مبینہ طور پر جواب دیا کہ ’ہم کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے اور تم ایک ہندو ہو اور ایک مسلمان لڑکے کے ساتھ گھوم رہی ہو تمہیں بھی قتل کرکے ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے سکھ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ وہ مسلمان لڑکا اور ہندو لڑکی کچھ غلط کررہے تھے، مجمعے کو کوئی حق نہیں ہے کہ انہیں ماریں۔ انہوں کہا کہ مسلمان، ہندو، سکھ ہر کسی کو حق ہے اور ہر کوئی محبت کرنے کے لیے آزاد ہے‘۔

ان گگن دیپ سنگھ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا نفرت کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ ’آج سب مجھے سوشل میڈیا کے باعث ہی جانتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر کچھ عناصر نفرت کو بھڑکا رہے ہیں‘۔

سکھ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ’ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ویڈیو وائرل ہوجائے گی اور مجھے بے حد حوصلہ افزائی اور عوام کا پیار ملے گا۔ میں تو بس اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا اور مجھے خوشی ہے کہ میرے عمل سے دوسرے لوگ بھی متاثر ہوئے‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ گگن دیپ سنگھ کو ان کے سینیئر پولیس افسران کی طرف سے شاباشی دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں کچھ دیر پہلے بینک گیا تو بینک عملے نے مجھے پہچان لیا اور میرے ساتھ سیلفیاں لینے لگے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں گائے ذبح کرنے کے الزام میں مسلمان نوجوان کو قتل کردیا گیا تھا، بھارتی پولیس نے قتل کے الزام میں چار افراد کو حراست میں لیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں