The news is by your side.

Advertisement

پُراسرار بیماری میں مبتلا بچہ، جس کا ہر گزرتا دن سال کے برابر ہے

کیلی فورنیا: امریکی ریاست کے شہر سیلیناس میں کمسن بچہ نایاب بیماری کا شکار ہوگیا جس کے لیے ہر گزرتا دن ایک سال کے برابر ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا کی ریاست کیلی فورنیا کے علاقے سیلیناس میں پیدا ہونے والا ’جے کے بورفکا’ نامی بچہ پیدائش کے وقت مکمل صحت مند تھا اور دو ماہ تک اُسے کوئی بیماری نہیں تھی۔

والدین کے مطابق وہ دو ماہ مکمل ہونے کے بعد معمول کے معائنے کے لیے ڈاکٹرز کے پاس گئے تو ڈاکٹر نے بورفکا کے مہلک مرض میں مبتلا ہونے کا انکشاف کیا۔

ڈاکٹرز ے بتایا کہ ’بورفکا triosephosphate isomerase deficiency نامی بیماری میں مبتلا ہے، یہ ایک ایسی خاص قسم کی بیماری ہے جس کے ابھی تک دنیا میں صرف 60 کیسز سامنے آئے۔

ڈاکٹرز نے بتایا کہ اس بیماری میں مبتلا ہونے والے بچوں کی عمر زیادہ سے زیادہ پانچ جبکہ کم سے کم دو سال ہوتی ہے۔ یہ بیماری انیمیا کی ایک قسم ہے جس میں خون میں سرخ خلیات کی دائمی کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے جسم میں آکسیجن کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے اور دمے کے مرض کے ساتھ مریض یرقان کا بھی شکار ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ triosephosphate isomerase deficiency (ٹی پی آئی) دراصل انسانی جسم میں ذیابیطس کی کمی پیدا کرتی ہے۔

والدین کے مطابق ڈاکٹرز نے بتایا کہ بچے کے ٹی پی آئی بہت کم ہے جس کی وجہ سے وہ بہت کم عرصے جی سکے گا۔

’یہ بات ہمارے لیے پہاڑ کی طرح ثابت ہوئی کیونکہ ڈاکٹر نے  بتایا کہ وہ نہ صرف اپاہج ہوجائے گا بلکہ بہت زیادہ پانچ سال کی عمر تک زندہ رہے گا‘۔

والدہ تارا اور والد جانسن کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹر نے ہمیں بتایا آپ کا بچہ صحت مند نظر آئے گا مگر ایک وقت میں وہ اس قدر بیمار ہوگا کہ اُسے ٹیوب (نلکی) کے ذریعے کھانا دیا جائے گا جبکہ وہ مکمل معذور ہوجائے گا اور اُسے سانس لینے میں بھی بہت مسائل ہوں گے‘۔

والد نےبتایا کہ بورفکا پہلی سالگرہ کے بعد پیٹ کی بیماری کا شکار ہوا، جس کے بعد اُس کی طبیعت مسلسل خراب ہوتی رہی اور اُسے سانس لینے میں بھی مسائل پیش آئے۔

یونیورسٹی آف پٹس برگ کے پروفیسر ڈاکٹر پالاڈین نے بتایا کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو شاز و نادر کسی کو ہوتی ہے، ہمیں علم ہے کہ بچے کو کون سی ادویات دی جائیں گی مگر اس بات کا یقین نہیں کہ وہ بچ سکے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ بورفکا کا علاج جاری ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ صحت یاب ہوجائے گا مگر اس وقت بچے کے  لیے ہر گزرتا دن ایک سال کی طرح ہے، کیونکہ اُسے  مدد کی ضرورت بھی ہے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں