ممبئی حملے بھارت نے خود کرائے، حقیقت سامنے آ گئی: سابق سفیر عبد الباسط -
The news is by your side.

Advertisement

ممبئی حملے بھارت نے خود کرائے، حقیقت سامنے آ گئی: سابق سفیر عبد الباسط

اسلام آباد: سابق سفیر عبد الباسط نے کہا ہے کہ ممبئی حملے بھارت نے خود کرائے تھے، حقیقت سامنے آ گئی، بھارت نے اجمل قصاب سے ہماری ملاقات کرانے سے انکار کیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں سابق سینئر سفارت کار اور ہائی کمشنر عبد الباسط کا کہنا ہے کہ انھیں اجمل قصاب کے بھارتی نکلنے پر کوئی تعجب نہیں ہوا، پہلے ہی یہ خیال تھا کہ ممبئی حملے بھارت نے خود کرائے۔

پاکستان عالمی سطح پراس ایشو کو اٹھائے، عالمی سطح پر بتانا چاہیے کہ ممبئی حملے بھارت کی اِن سائیڈ جاب تھی۔

بریگیڈیئر (ر) حارث نواز دفاعی تجزیہ کار

انھوں نے کہا کہ کمیشن بنایا گیا تھا اور بھارت سے کہا تھا کہ اجمل قصاب سے ہماری ملاقات کرائی جائے لیکن بھارت سرکار نے انکار کر دیا تھا۔

سابق سفیر نے کہا ’جوڈیشل کمیشن نے ملاقات کے لیے کئی بار اصرار کیا مگر مسلسل انکار ہوتا رہا، بھارت نے ہماری ملاقات کرائے بغیر ہی اجمل قصاب کو پھانسی دے دی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بھارت چاہتا ہی نہیں تھا کہ یہ مقدمہ مکمل ہو، اسے پاکستان کے خلاف موقع ملا ہوا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ 24 بھارتی شہریوں نے ممبئی حملہ کیس میں پاکستان میں بیانات ریکارڈ کرانے ہیں، لیکن بھارت ان شہریوں کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دے رہا۔


یہ بھی پڑھیں:  اجمل قصاب بھارتی شہری نکلا، ڈومیسائل سامنے آنے پر انتظامیہ پریشان


عبد الباسط کا کہنا تھا کہ بھارت ممبئی حملوں کی تحقیقات میں کسی قسم کا تعاون نہیں کر رہا ہے بلکہ صرف اور صرف عالمی سطح پر پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔

بھارت نے ہماری ملاقات کرائے بغیر ہی اجمل قصاب کو پھانسی دے دی تھی۔

سابق سفیر

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے بھی کہا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پراس ایشو کو اٹھائے، عالمی سطح پر بتانا چاہیے کہ ممبئی حملے بھارت کی اِن سائیڈ جاب تھی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مطالبہ کرتا رہا کہ ہمیں ثبوت اور دستاویزات فراہم کریں، اب اجمل قصاب کا ڈومیسائل سامنے آ گیا ہے، پاکستان عالمی سطح پر یہ ایشو اٹھائے۔

حارث نواز کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا، اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری حقیقت سمجھے، ممبئی حملوں جیسے اور بھی واقعات ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں