واشنگٹن(15 جون 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق معاون اور کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ کا بڑا مطالبہ سامنے آٖگیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق معاون اور کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ نے ایک بڑا اور سنسنی خیز مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں کے تحفظ کے لیے اسرائیل کی حمایت کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک بیان میں جو کینٹ نے کہا کہ امریکا کو اسرائیل کے لیے اپنی تمام تر فوجی اور انٹیلی جنس امداد کو فوری طور پر بند کر دینا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ایران کے ساتھ ہونے والے ان اہم معاہدوں اور یادداشتوں کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے، اور اگر اب بھی اس کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں بھی ایسی تخریبی کوششیں دہرائی جا سکتی ہیں۔
سابق سربراہ کاؤنٹر ٹیررازم نے مزید مشورہ دیا کہ امریکا کو خلیجی ممالک میں قائم اپنے فوجی اڈوں سے تمام اہلکاروں کو فوری طور پر واپس بلا لینا چاہیے اور ایران کی مار یا پہنچ میں آنے والے تمام امریکی فوجی اڈے بھی فوری طور پر خالی کر دیے جائیں۔
جو کینٹ کا کہنا تھا کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر امریکا کو مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئی اور بڑی جنگ سے بچنے کے لیے دور اندیشی پر مبنی پالیسی اپنانی چاہیے۔


