site
stats
اہم ترین

بے نظیر کی وطن واپسی پر سعودیہ نے نواز شریف کی واپسی کے لیے زور دیا، مشرف

کراچی: سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ نواز شریف کی کوئی حیثیت نہیں تھی ان سے ڈیل کیوں کرتا؟ سعودی کنگ عبداللہ کے کہنے پر نواز شریف کو باہر بھیجا،افتخار چوہدری کا چیف جسٹس بننا ملک کی بدقسمتی ہے، امریکیوں کے بغیر ویزا آنے کا کوئی خفیہ معاہدہ نہیں تھا۔

یہ بات انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں میزبان وسیم بادامی سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہی۔


اسی سے متعلق: پرویز مشرف خفیہ ڈیل کرنا چاہتے تھے، وزیراعظم کا انکشاف


منگل کو اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف نے پارٹی اجلاس میں کہا تھا کہ سال 2007ء میں پرویز مشرف مجھ سے خفیہ ڈیل کرنا چاہتے تھے، انہوں نے پیغام بھی بھیجا تھا۔ نواز شریف نے مزید کہا تھا کہ مجھے زبرستی جلاوطن کیا گیا اور ملک آنے نہیں دیا گیا اور آج مشرف ملک سے باہر ہیں اور وطن آ نہیں سکتے، یہ مکافات عمل ہے۔

 نواز شریف کی کوئی اہمیت نہیں تھی، میں ڈیل کیوں کرتا؟

پرویز مشرف نے اس بیان پر کہا کہ یہ سفید نہیں کالا جھوٹ ہے، خفیہ ڈیل کرنا میری فطرت نہیں، 2007ء میں یہ نئے نئے تھے ان کی کوئی اہمیت نہیں تھی،ان سے ڈیل کیوں کرنی تھی؟پی ایم ایل (ق ) اس وقت پاپولر پارٹی تھی، نواز شریف کو جھوٹ بولنے کی عادت ہے ، جب یہ باہر گئے تو اس وقت بھی جھوٹ بولتے تھے کہ کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔

سعودیہ عرب کے اصرار پر نواز شریف کو باہر بھیجا

سعودی عرب کے کنگ عبداللہ کے کہنے پر نواز شریف کو باہر بھیجنے کی ڈیل کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتظام تھا عزیز دوست سعودی عرب نے اصرار کیا تو نواز شریف کو بھیج دیا یہ خفیہ ڈیل نہیں تھی کہ بتائی نہ جائے۔

پروگرام میں خواجہ سعد رفیق کی ویڈیو دکھائی گئی جس میں سعد رفیق کہہ رہے تھے  کہ مشرف ڈیل کا کہہ رہے تھے لیکن نواز شریف نے بات ہی نہیں سنی اور مشرف کو گھاس ہی نہیں ڈالی تاہم پرویز مشرف نے اس بیان کو بھی مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف ملک سے 10 سال کے لیے باہر تھے ان سے ڈیل کرنا عقل سے بالاتر ہے کیوں کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی کچھ نہیں پتا تھا کہ وہ کب وطن واپس آئیں، یہ کہنا بھی غلط ہے کہ میں ان کے ساتھ اگلی حکومت بنانا چاہتا تھا۔

شہباز شریف کے لیے نرم گوشہ تھا

ایک سوال پر انہوں نے تسلیم کیا کہ شہباز شریف کے لیے ان کے دل میں نرم گوشہ موجود تھا، ان کی گورننس اور کارکردگی بہتر تھی۔

بے نظیر سے معاہدہ تھا کہ وہ الیکشن سے قبل نہیں آئیں گی

شوکت عزیز نے کتاب میں رچڑڈ باؤچر کے حوالے سے لکھا تھا کہ نواز شریف کی وطن واپسی مشکل بنائی جائے گی جس پر مشرف نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ بے نظیر کو فیور دیا جائے اور نواز شریف کو نہیں، نواز شریف سے طے تھا کہ وہ دس سال سے پہلے نہیں آئیں گی جب کہ بے نظیر سے طے تھا کہ وہ الیکشن سے قبل نہیں آئیں گی یعنی الیکشن کے وقت دونوں موجود نہیں ہوتے۔

سعودی عرب نے نواز شریف کی وطن واپسی کے لیے اصرار کیا

بے نظیر کی وطن واپسی کے بعد کیا سعودی عرب نے نواز شریف کی واپسی کے لیے دباؤ ڈالا؟ اس سوال پر انہوں نے تسلیم کیا کہ سعودی عرب بے نظیر کے حق میں نہیں تھے لیکن بے نظیر کی واپسی پر انہوں نے کہا کہ اب نواز شریف کو بھی آنے دیا جائے۔

نواز شریف سوچیں سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں کیا کہا جارہا ہے

نواز شریف نے گزشتہ روز بیان میں کہا کہ مشرف باہر ہیں اور میں وطن میں یہ مکافات عمل ہے جس پر پرویز مشرف نے کہا کہ زندگی میں ایسا اپ اینڈ ڈاؤن آتا رہتا ہے یہ کوئی ایسی بات نہیں۔

پرویز مشرف نے کہا کہ جو کچھ نواز شریف کے ساتھ ہورہا ہے وہ اس کے بارے میں سوچیں، میں خوش ہوں میری شہرت بہت ہے، جہاں جاتا ہوں عزت ملتی ہے، نواز شریف دیکھیں میڈیا اور ٹوئٹر پر ان کے بارے میں کیا کہا جارہا ہے، بدتمیزی کی جارہی ہے، انہیں گالیاں دی جاری ہیں،پوری دنیا میں کیا کچھ کہا جارہا ہو اور وہ وزیراعظم بنے بیٹھے ہیں انہیں سوچنا چاہیے۔

افتخار چوہدری کا چیف جسٹس بننا پاکستان کی بدقسمتی ہے، ان کی بے عزتی پر خوشی ہے

سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور بیٹے کے وائرل ہونے والے ویڈیو کلپ کے سوال پر انہوں نے کہا کہ افتخار چوہدری اور ان کے بیٹے کی اور زیادہ بے عزتی ہونی چاہے،یہ اور ان کابیٹا دو نمبر لوگ ہیں،پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ وہ چیف جسٹس بنے اور پاکستان کا بیڑا غرق کیا، مجھے خوشی ہے ان کے ساتھ ایسا ہوا۔

امریکیوں کے بغیر ویزا آنے کی کوئی خفیہ ڈیل نہیں تھی

امریکی کوبغیر ویزا آنے اور جانے کی اجازت تھی؟ اس سوال پر انہوں نے کہا کہ  یہ بکواس باتیں ہیں، میری نوکری 24 گھنٹے تھی جو کہ بہت مشکل کام ہے، بحیثیت صدر پاکستان میں ان چھوٹی باتوں میں نہیں پڑا، یہ گورننس نہیں کہ کون کہاں سے آیا اور کس کا سامان چیک کیا جائے،یہ امیگریشن ڈپارٹمنٹ انچارج کی باتیں ہیں، میں خود کو ان چیزوں سے بالاتر سمجھتا تھا۔

پرویز مشرف نے کہا کہ امریکیوں کو ویزا دینے کے معاملے میں کوئی خفیہ ڈیل نہیں تھی، نچلی سطح پر کسی نے کسی امریکی کا فائدہ کردیا تو ایسا تو ہوتا ہے لیکن اعلیٰ  سطح پر ایسا کچھ نہیں ہے،پالیسی واضح تھی۔

حسین حقانی ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں

حسین حقانی کے آرٹیکل پر انہوں نے کہا کہ حسین حقانی بطور سفیر پاکستان مخالفت سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔

اگلے الیکشن میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی جیتیں گے

اگلے الیکشن کے سوال پر مشرف نے کہا کہ اگر کوئی بڑی سیاسی تبدیلی نہیں آئی  اور یہی منظر نامہ جاری رہا اور الیکشن ہوئے تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ہی جیتیں گے۔

مکمل پروگرام: 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top