سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس ، سابق آئی جی مشتاق سکھیرا پر فرد جرم عائد
The news is by your side.

Advertisement

سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس ، سابق آئی جی مشتاق سکھیرا پر فرد جرم عائد

لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس  میں سابق آئی جی مشتاق سکھیرا پر فرد جرم عائد کردی گئی جبکہ عدالت نے گواہان کو شہادتوں کے لیے کل طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کی سماعت ہوئی، سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا عدالت میں پیش ہوئے۔

ملزم کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی ایک ہفتہ کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی، جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے فرد جرم پر دستخط کرنے کا حکم دیا لیکن مشتاق سکھیرا نے فرد جرم پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔

جس پر عدالت نے قرار دیا کہ آپ فرد جرم پڑھ کر دستخط کریں ورنہ عدالت اپنا حکم جاری کرے گی۔ عدالتی حکم کے بعد مشتاق سکھیرا نے دستخط کر دیئے۔

دوران سماعت مشتاق سکھیرا کے موبائل فون کی گھنٹی بجنے پر پاکستان عوامی تحریک کے وکیل نے نشاندہی کی، جس پر مشتاق سکھیرا اور وکیل میں تلخ کلامی ہوئی۔

موبائل کی بیل بجنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے موبائل فون قبضہ میں لینے کا حکم دے دیا۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے گواہان کو شہادتوں کے لیے طلب کر لیا۔

گذشتہ روز سماعت میں انسداد دہشت گردی عدالت میں مشتاق سکھیرا کے وکلا کو استغاثہ کی نقول فراہم کی گئیں اورعدالت نے فرد جرم عائد کرنے کے لیے سابق آئی جی کو طلب کیا گیا تھا۔

مشتاق سکھیرا کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ مشتاق سکھیرا کو سیکیورٹی کے پیش نظر حاضری سے استثنی سے دیا جائے جبکہ منہاج القرآن کے وکیل نے دلائل دیے کہ طویل عرصے کے بعد مشتاق سکھیرا عدالت میں پیش ہوئے اس لیے انھیں استثنی نہ دیا جائے۔

عدالت نے مشتاق سکھیرا کی درخواست پر وکلا کو بحث کے لیے طلب کرلیا ۔

خیال رہے مشتاق سکھیرا نےانسداد دہشت گردی عدالت کی طلبی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا تاہم ہائی کورٹ کے فل بنچ نے اپیل مسترد کرتے ہوئے انھیں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے چند روز قبل سپریم کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹائون کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے نئے جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم بنانے کی عوامی تحریک کی درخواست پر پنجاب حکومت پراسیکیوشن اور ملزمان کو نوٹس کر دئیے تھے ۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سانحہ ماڈل ٹائون کی متاثرہ لڑکی بسمہ کی درخواست پر سماعت کی تو عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری روسٹم پر آگئے اور انہوں نے چیف جسٹس پاکستان کی عوام کی دادرسی کے لیے اقدامات کو سنہرا باب قرار دیا تھا۔

عدالت نے انسداد دہشت کی عدالت کو سانحہ ماڈل ٹاون کے مقدمات میں سرکاری افسران کو طلب کرنے اور سماعت روزانہ کی بجائے ہفتے میں دو بار ہ سماعت کا حکم دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں