واشنگٹن (11 اپریل 2026): امریکا نے ایران کی سابق نائب صدر معصومہ ابتکار کے اہل خانہ کے ویزے منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے ایران کی خواتین اور خاندانی امور کی سابق نائب صدر معصومہ ابتکار کے اہل خانہ کی رہائشی حیثیت (ویزے) منسوخ کر دی ہے۔
مارکو روبیو نے ایکس پر کہا کہ انہوں نے معصومہ ابتکار کے بیٹے عیسیٰ ہاشمی، ان کی اہلیہ اور بیٹے کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں، ان افراد کو امریکا میں رہنے اور غیر معمولی مراعات سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جانی چاہیے تھی۔
ان کے مطابق یہ افراد اس وقت امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی تحویل میں ہیں اور ان کی ملک بدری کے عمل کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
Masoumeh Ebtekar – also known as "Screaming Mary” – was the spokeswoman for the Islamic terrorists who stormed the U.S. Embassy in Tehran in 1979 and held 52 Americans hostage for 444 days – subjecting them to beatings, starvation, and mock executions.
In 2014, the Obama…
— Secretary Marco Rubio (@SecRubio) April 11, 2026
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مرحوم ایرانی میجر جنرل قاسم سلیمانی کے اہل خانہ کے ویزے منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب، ایرانی میڈیا نے قاسم سلیمانی کی صاحبزادی زینب سلیمانی کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی تردید کی تھی کہ گرفتار کی گئی دو خواتین کا قدس فورس کے مرحوم سربراہ کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی تعلق ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


