The news is by your side.

Advertisement

نامزدگی فارم میں تبدیلی کا معاملہ، سابق اسپیکر نے انتخابات میں تاخیر کا خدشہ ظاہر کردیا

عدالت نے فارم کو کالعدم قرار نہیں دیا بلکہ بہتری کا کہا ہے، ابہام دور کرنے کے لیے سپریم کورٹ جا رہے ہیں، ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر ایاز صادق نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نئے فارم بنائے گی تو اس سے انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

 ایاز صادق کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں تمام جماعتوں کا بھی یہ فیصلہ تھا کہ فارم میں تبدیلی لانی ہے لیکن عدالت نے الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد فیصلہ دیا۔

سابق اسپیکر نے کہا کہ سب کو پتا تھا کہ اکتیس مئی کو حکومت کی مدت پوری ہوجائے گی پھر بھی اتنا موقع نہیں دیا گیا کہ اسمبلی میں اس معاملے پر فیصلہ کیا جاسکے۔

ایاز صادق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی اصلاحات پر عدالت نے فیصلہ درست وقت پر نہیں کیا، ہم اس کے خلاف اعلیٰ عدالت سے رجوع کریں گے، اس سلسلے میں وکلا سے بھی مشاورت ہوگئی ہے، پٹیشن جلد فائل کردیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو قوتیں الیکشن کے درپے ہیں انھوں نے حکمت عملی بنالی ہے، اگر ن لیگ 60 سے 70 نشتیں لیتی ہے تو انتخابات وقت پر ہوں گے لیکن اگر ن لیگ 100 یا زائد نشتیں لے گی تو پھر انتخابات نہیں ہوں گے۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ چوہدری نثار ن لیگ کے ٹکٹ سے نہ بھی لڑے تو بھی پارٹی نہیں چھوڑیں گے، وہ پارٹی ٹکٹ لینے نہ آئے تو خود دینے چلا جاؤں گا۔

ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن کی بریفنگ


دوسری طرف ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن اختر نذیرنے دوبارہ میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نامزدگی فارم پر ہمارا جو مؤقف عدالت میں تھا وہ آج بھی قائم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نامزدگی فارم پر بھی انھوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ہم ابہام دور کرنے کے لیے سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔

کاغذات نامزدگی میں ترامیم کالعدم قرار‘ الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس شروع


اختر نذیر نے کہا کہ نامزدگی فارمز کو قانون کی بجائے قواعد کا حصہ ہونا چاہیے، عدالت نے فارم کو کالعدم قرار نہیں دیا بلکہ بہتری کا کہا ہے، نیز عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ فارم میں تبدیلی کا اختیار پارلیمنٹ کو ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے کاغذات نامزدگی میں ترامیم کالعدم قرار دے کر الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں