site
stats
اے آر وائی خصوصی

حافظ سعید کی نظربندی درست اقدام ہے: معین الدین حیدر

 کراچی: سابق وفاقی وزیرداخلہ‘ سابق گورنر سندھ  لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کو ایم کیو ایم کے را سے روابط کا علم تھا لیکن ان کو قومی دھارے میں واپس لانے کے لیے نظرانداز کیا گیا‘ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حافظ سعید کی نظر بندی درست اقدام ہے۔

اے آروائی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وطن کے دفاع سے زیادہ مقدم کچھ نہیں ہوتا اداروں کا کام کرنے کا اپنا طریقہ کار ہے۔

ملک کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت بہتری کی راہ پر گامزن ہے ‘ یورپ سڑکیں بنا کر ہی ایک دوسرے کے نزدیک آیا ہم بھی سڑکیں بنا کر شہروں کو قریب لا رہے ہیں۔

لیفٹینٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر، سابق گورنرسندھ اور وفاقی وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں، معین الدین حیدر 5 جون 1942 کو حیدرآباد ( دکن) میں پیدا ہوئے، 1948 میں پاکستان ہجرت کی، بتدائی تعلیم کے حصول کے بعد رائل کالج آف ڈیفنس اسڈیز سے حاصل کی اور پاکستان آرمی سے وابستہ ہوگئے، 37 سال پاکستان آرمی میں اہم خدمات سر انجام دیں، ان کی خدمات کے عوض معروف فوجی اعزاز “ہلال امتیاز” سے نوازا گیا۔

 بعد ازاں 17 مارچ 1997 سے 17 جون 1999 تک گورنر سندھ رہے، پھر 6 نومبر 1999 سے 23 نومبر 2002 تک وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز رہے، ان کے پولیس ری فارم اقدامات، اسلحہ لائنسز، باڈرمینجمنٹ، ضرب مومن، 1965 اور 1971 کی جنگ اس کے علاوہ ان کا ریسرچ ورک بہت اہمیت کا حامل ہے.


اے آر وائی نیوز: گورنر کا عہدہ علامتی سا بن کر رہ گیا ہے، جبکہ موجودہ حکومت میں صدر کا منصب بھی علا متی ہی ہے، کیا ان عہدوں کو فعال بنا نے کے لئے کسی مشا ورت کی ضرورت ہے ؟

لیفٹینٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر: بالکل درست بات ہے، موجودہ نظام کے پیش نظر ملک کے صدر اور گورنر کا رول محدود ہو گیا ہے، اسمبلی سیشن کال کرنا ، ایوان میں کی گی قانون سازی پر منظوری دینا، بس یہی رول ہے پاکستان کے صدر اور صوبوں کے گورنر کا، صوبوں کے مسائل کے حل کی آئینی ذمے داری گورنر پر عائد نہیں ہوتی ہے، البتہ اخلاقی طور پر وہ یہ سارے امور سر انجام دے سکتا ہے، مگر آئینی طور پر سارےاختیارات وزیر اعلیٰ کے پاس چلے گئے ہیں، پہلے گورنر پاور فل ہو تا تھا، گورنر کو غیر سیاسی ہونا چاہیے، تاہم چاروں صوبوں کے گورنر نوازشریف صاحب کی پارٹی سے وابستہ رہے ہیں، جو مناسب نہیں ہے.

اے آر وائی نیوز: سندھ پولیس چیف اے ڈی خواجہ کا حالیہ بیان پر آپ کی کیا رائے ہے، وہ کیوں اتنے دل برداشتہ نظر آ ئے ؟

لیفٹینٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر: دیکھیں اے ڈی خواجہ کی باتوں میں آدھا سچ ہے، پولیس ٹریننگ کی بہتری کی سخت ضرورت ہے، ہاں یہ بات درست ہے کہ پولیس میں سیاسی بھرتیاں ہیں،جسے ختم ہونا چا ہیے، پرویز مشرف نے سب کو فری ہینڈ دیا تھا، بھٹو صاحب کے دور میں جب غلام مصطفی کهر پنجاب کے گورنر تھے تو پولیس کے درمیان بغاوت پھیل گئی تھی، بھٹو صاحب نے فوج کو صوبے میں مداخلت کرنے کا کہا تھا، فوج نے واضح الفاظ میں ان کو کہہ دیا تھا کہ ہم اپنوں پر گولی نہیں چلائیں گے، نہ فوج کا یہ کام ہے نہ وہ کرے گی، عوام کا اعتماد فوج پر سے ختم ہو جائے گا، اس کے بعد وفاق کی فورس بنی پھر احمد رضا قصوری کے والد صاحب کا قتل ہو گیا،پھر رینجرز کا قیام عمل میں آیا بعد ازاں حالات میں بہتری آئی، یہ سچ ہے کہ حکومتیں اپنے مقا صد کے حصول کے لئے پولیس کو استعمال کرتی ہیں. انور مجید کا معاملہ ، اسد کھرل معاملہ سب کے سامنے ہے، اس کے علاوہ بھی بہت خرابیاں ہیں، دوسرے ممالک میں ہرضلع کی اپنی پولیس اور اپنا بجٹ ہے، تب ہی وہاں مسا ئل قابو میں ہیں۔

اے آر وائی نیوز: کراچی کی صورت حال آپ کے سامنے ہے، ملک کا معاشی حب سیاسی یتیم ہے، کیا بہتری ممکن ہے ؟

لیفٹینٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر: دیکھیں جی بات یہ ہے، کہ لوگوں کو اپنا سیاسی شعور کو بیدار کرنا ہو گا، یہ انتخابات میں پتہ چلے گا، یہ آپکی بات درست ہے کہ کراچی سیاسی یتیم ہو گیا ہے، بانی ایم کیو ایم نے اپنے آپ کو خود ختم کیا، سب سے پہلا پتھر تو مصطفی کمال نے مارا، پھر انہوں خود اپنا کام تمام کیا، اور اس کے بعد فاروق ستار نے بھی ان سے اعلانِ لاتعلقی کردیا، میرا کہنا ہے کہ کراچی کو سیاسی یتیمی سے بچانے کے لئے فاروق ستار اور مصطفی کمال کو ایک ہو جانا چاہیے، دونوں ہی بانی ایم کیو ایم کے خلاف ہیں، تو دونوں کا ایک ہوجانا بہتر ہے، پھرآفا ق احمد کو بھی اپنے ساتھ ملائیں اورعشرت العباد کا بھی خیر مقدم کریں، اور لندن کا چیپٹر مکمل کلوز کریں. تاکہ کراچی مضبوط ہو، میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ کراچی کا لوکل مسئلہ ایم کیو ایم ہی حل کر سکتی ہے.

اے آر وائی نیوز: جو الزامات سابق ناظم کراچی مصطفی کمال نے بانی ایم کیو ایم پرعا ئد کیے کیا وہ آپ کے علم میں تھے؟

لیفٹینٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر: مجھے ان تمام باتوں کا علم تھا، مصطفی کمال نے درست کہا ہے۔

اے آر وائی نیوز: پھراس معاملے پر ایکشن کیوں نہیں لیا گیا‘ کیا سابق صدر پرویز مشرف کے علم میں یہ معاملہ تھا؟

لیفٹینٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر: ایجنسیز کا کام کرنے کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے ‘ یہ ملک دشمن عناصر کے آلہ کار نہ بنیں اس لیے اں کو پاورمیں لایا گیا کہ اپنے بچے ہیں، غلط راہ پر چلے گئے ہیں، سدھرجا ئیں گے‘ ایجنسیوں کی اپنی حکمت عملی ہوتی ہے، وہ اپنوں کو ٹھیک ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

اے آر وائی نیوز: آپ میاں صاحب کے بہت قریب رہے ہیں، نواز شریف صاحب کی تمام تر توجہ موٹرویز پرہی کیوں مرکوز کر رکھی ہے، کیا پاکستان کے مسائل کا حل موٹرویز کے قیام سے مشروط ہے؟

لیفٹینٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر: پاکستان میں آج کل 35 ملین ڈالر کے بجلی گھر لگ رہے ہیں، اس سے پاکستان میں توانائی کی کمی پوری ہو گی، پاکستان میں درآمد اور بر آمد کا نظام درست طریقے سے کیا جا رہا ہے، اس سلسلے میی گوادر کو مستحکم کیا جا رہا ہے، اور دیکھیں موٹر ویز بھی ضروری ہیں، ایک شہر سے دوسرے شہر آنے جانے کے لئے اچھی سٹرک کا ہونا بھی ضروری ہے، یورپین یونین نے اسی طر یقے سے کامیابی حاصل کی۔ وہ ملک در ملک سٹرکوں کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آئے، ہم ابھی شہردرشہر ایک دوسرے کو باہم ربط کرنا چاہ رہے ہیں، پھر انشا اللّه ملک درملک بھی ز مینی راستہ بہتر بنائیں گے.

اے آر وائی نیوز: ملک سے اچانک لوگ غائب ہوجاتے ہیں، پھرآجاتے ہیں، کوئی ان سے نہیں پوچھتا کہ کون لے کرگیا، کون چھوڑ گیا، کوئی سنوائی نہیں ہے.

لیفٹینٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر: جب کوئی ملک کے خلاف کام کر ےگا، ملک کو نقصان پہچا نے کی کو شش کرے گا تو اس ملک کی نگرانی پر مامور ادارے کوئی کمزور نہیں ہیں، وہ دن رات ملک کا دفاع کر رہے ہیں، لازمی سی بات ہے کوئی ماں کے خلا ف کام کرے گا تو نیک اولاد اس کو کیسے آزاد چھوڑ دے گی.

اے آروائی نیوز: حا فظ سعید کی نظر بندی پر کیا تبصرہ کریں گے؟

لیفٹینٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر:  دیکھیں پاکستان کسی بھی قسم کی شر انگیزی کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے، لہذا ان کی نظر بندی درست اقدام ہے.

اے آر وائی نیوز: مسعود اظہر اوربھارتی طیارے کی ہائی جیکنگ کے حوالے سے کچھ بتائیں کہ وہ سب کیا معاملہ تھا؟

لیفٹینٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر:  آپ کی صحافی زبان میں ایک لفظ ہوتا ہے، ٹیبل اسٹوری، وہ ہے یہ سب، مجھ بتا ئیں کیا لاہور میں تیل کا کنواں تھا، جو وہ یہاں آیا؟ ہاں مسحود اظہر قندھار کے ذریعے پاکستان میں آ گیا تھا، یہاں رہنے لگا تھا، پھریہاں آکر اس نے شرانگیزی شروع کردی، پرویز مشرف صاحب نے اس کے خلاف ایکشن لیا، اسے قید کیا گیا پھراسے افغانستان کے حوالے کردیا تھا۔

اے آر وائی نیوز: پاکستان افواج نے ملک و قوم کے لئے جانیں قربان کیں، ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جب آپ کو یہ سننے کو ملے کہ پاک افواج دہشت گردوں کے سر پرست ہیں، یہ شہید نہیں، یا اس قسم کی اور بہت سی باتیں، ایک سپاہی کے مورال پر کتنا کاری ضرب ثابت ہو تی ہیں؟

لیفٹینٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر: افسوس ناک بات ہے، دیکھیں 1965 کی جنگ سے قبل ایک آپریشن جو ہوا وہ بھٹوصاحب کی ایما پر ہوا تھا، فوج ایک ماتحت ادارہ ہے، سب کو پتہ ہے کہ اس قسم کی پالیسیوں کے پیچھے حکومتیں ہوتی ہیں، رہی بات سپاہی کے مورال کی، فوجی نے قسم کھائی ہوتی ہے کہ وہ اپنی سر زمیں کی حفاظت کرے گا، وہ تو اس نے کرنا ہے، پاکستان افواج کے لئے پاکستان سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے، کوئی کچھ بھی بولے، ہمیں اپنی ماں کی حفاظت کرنی ہے.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top