The news is by your side.

کراچی میں مہنگی بجلی: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کراچی کے بجلی صارفین کو تحفظ کے لیے وزیراعظم کو براہ راست خط لکھ دیا۔

خط کے مطابق ایس ایس جی سی سی کی جانب سے گیس اکلوکیشن کوٹے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نجی کاروباری اداروں کو سستی گیس فراہم کی جارہی ہے کراچی کے صارفین کو ایف سی اے کی مد میں کم ازکم 131 بلین سالانہ کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ایس ایس جی سی کا فرانزک آڈٹ کروایا جائے بجلی بنانے والے ادارے کو درآمدی گیس (ایس آر ایل این جی) کی فراہمی کی وجہ سے فی یونٹ صارفین کو 17 روپے کے بجائے قریبا 35 روپے پڑھ رہی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے کے الیکٹرک کو ترجیحی بنیاد پر مقامی گیس کی فراہمی کے لیے وزیر اعظم کو خط میں سفارش کی ہے۔

خط کے مطبا قپیٹرولیم ڈویژن کے 15 اکتوبر 2018 کے نوٹیفیکیشن کے مطابق پاور سیکٹر کو دوسری اور کیپٹو پاور پلانٹس کو تیسری ترجیح حاصل ہے، اکتوبر 2018 سے کے ای کو قدرتی گیس فراہم منقطع کر کے سی پی پی کے مالکان کے ساتھ مل کر ایس ایس جی سی، سی سی پی کے پاور پلانٹس کو لوکل گیس کی فراہمی برقرار رکھے ہوئے ہے جن کی لاگت تقریبا ایک روپے اضافی ہے۔

ایس ایس جی سی نے وزارت توانائی یا کابینہ کے کسی منظوری کے بغیر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیپٹو پاور کی ترجیح کو دوسرے میں تبدیل کر دیا ہے، ایس ایس جی سی سے کیپٹو پاور پلانٹس کو کل 210 ایم ایم سی ڈی ایف ڈی قدرتی گیس 857 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو بی کے حساب سے فراہم کر رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں