The news is by your side.

Advertisement

پی آئی اے : مہنگی لیزپر لئے گئے طیاروں کا معاملہ گھمبیرہوگیا

کراچی : قومی ایئر لائن پی آئی اے کے لیے مہنگی لیز پر لیے گئے طیاروں کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، ویٹ لیز پرحا صل کیے گئے طیارے کے لیے پی آئی اے بورڈ سے منظوری بھی حا صل نہیں کی گئی تھی۔

ذرائع سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کے لیے مختلف طیارے مہنگی لیز پر لینے کا معا ملہ اہم صورت اختیار کرگیا، اس حوالے سے تفتیشی حکام نے لیز کے معاملات میں اہم کردار کے حا مل شعبے کو بھی شامل تفتیش کر نے کا فیصلہ کرلیا۔

طیارے کی لیز کے فیصلے میں شامل متعلقہ شبعے کے افسر سے تفصیلی بیان لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، طیارے مہنگی لیز پر لیے جانے سے متعلقہ تمام دستاویزات بھی تفتیشی ٹیم نے طلب کر لی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی ایئر لائن کے لیے لیز پر لیے گئے دیگر طیاروں کا ریکارڈ بھی شعبہ کارپوریٹ پلا ننگ سے طلب کر لیا گیا۔

علاوہ ازیں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر برنڈ ہلڈن برانڈ ای سی ایل میں نام ہونے کے باوجود تاحال عہدے پر برقرار ہیں۔ ہلڈن برانڈ پہلے کی طرح تنخواہ اور مراعات بھی وصول کررہے ہیں۔

پی آئی اے کے سی ای او پر پریمیئر سروس کیلئے لئے گئے جہاز کے معاہدے میں کرپشن کرنے کے الزامات ہیں، ہلڈن برانڈ نے غیرملکی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے انٹرویو میں ان الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

مزید پڑھیں : پی آئی اے کے سی ای او کی وطن واپسی کے لیے سفارتی ذرائع کے استعمال کا امکان

دوسری جانب پی آئی اے انتظامیہ نے اپنے سی ای او کے بیان کو قبول کرنے سے انکار کردیا، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہلڈن برانڈ نے جو بیان دیا اسے پی آئی اے انتظامیہ تسلیم نہیں کرتی، وزارت داخلہ اس سلسلے میں حتمی کارروائی کررہی ہے، جس پر کچھ نہیں کرسکتے۔

مزید پڑھیں : پی آئی اے نے پریمئر سروس کے لیے حاصل کردہ طیارہ واپس کردیا

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں