The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: ایکسپائر اقامے پر وطن واپسی کیسے ممکن ہے؟

ریاض: سعودی حکام نے وضاحت کی ہے کہ ایکسپائر اقامہ پر وطن واپسی کیسے ممکن ہوگی، اور اقامے کی تجدید پر کیا جرمانہ عائد ہوسکتا ہے۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب میں رہنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے لازمی ہے کہ اقامہ کو اپ ڈیٹ رکھیں، قانون کے مطابق اقامہ ایکسپائر ہونے کی صورت میں 500 ریال جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر اقامہ کی تجدید میں دوسرے برس بھی تاخیر ہوتی ہے تو اس صورت میں جرمانہ 1 ہزار ریال عائد کیا جاتا ہے جبکہ تیسری بار بھی تاخیر پر قانون کے مطابق اقامہ ہولڈر کو ڈی پورٹ کیا جاتا ہے۔

اقامہ اور ہروب کے حوالے سے ایک شخص نے جوازات سے دریافت کیا کہ اسپانسر نے ہروب فائل کر دیا ہے جبکہ پاسپورٹ اور اقامہ بھی اس کے پاس ہے نہ وہ فائنل ایگزٹ لگاتا ہے اور نہ ہی اقامہ دیتا ہے، میں واپس جانا چاہتا ہوں کیا کروں۔

سوال کا جواب دیتے ہوئے جوازات کا کہنا تھا کہ مذکورہ کیس میں وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود آبادی کے ذیلی ادارے سے رجوع کیا جائے جہاں کیس کی تفصیل لکھ کر درخواست دیں تاکہ وہ معاملے کا مناسب حل نکالیں۔

ایک اور شخص کی جانب سے دریافت کیا گیا کہ اقامہ ختم ہوئے 80 دن گزر چکے ہیں، خروج نہائی جانا چاہتا ہوں مگر اہل خانہ پر عائد فیس ادا نہیں کی، کیا کیا جائے۔

اس حوالے سے جوازات کا کہنا تھا کہ خروج نہائی ویزے کے لیے لازمی ہے کہ اقامہ کارآمد ہو اور اس کی مدت میں کم ازکم 60 دن باقی ہوں۔ اقامہ تجدید کروانے کے بعد خروج نہائی فائنل ایگزٹ لگایا جا سکتا ہے۔

جہاں تک اہل خانہ کی فیس ہے، اسے ادا کرنا ضروری ہے۔

فیملی فیس امسال 400 ریال ماہانہ کے حساب سے عائد کی جاتی ہے، ہر ایک فرد کے لیے ماہانہ 400 ریال ادا کریں اور جتنی مدت کی تاخیر ہوئی ہے اسے ادا کرنے کے بعد اقامہ تجدید کروایا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ رواں برس اقامہ کی تجدید کے لیے سہہ ماہی کی سہولت فراہم کی گئی ہے جس کے تحت مذکورہ مدت کے لیے اقامہ کی فیس اور فیملی فیس ادا کرنے کے بعد اقامہ تجدید کروایا جاسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں