The news is by your side.

Advertisement

بیلجئم کے میٹرو اسٹیشن پر دھماکہ، ایئرپورٹ پردودھماکے، 27 ہلاک متعدد زخمی

برسلز: بیلجئم کے ایئرپورٹ پردودھماکے ہوئے ہیں جن میں 13 افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، برسلز میں ہی میٹرو اسٹیشن پرہونےوالے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 15 ہوگئی ہے، دھماکوں کے بعد شہرکی سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔

تفصیلات کےمطابق برسلز سے دس کلومیٹر کےفاصلے پرواقع ایئرپورٹ کے ڈیپارچرلاؤنج میں دو دھماکے ہوئے ہیں جن میں 13 افراد کے جاں بحق اور 35 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے، دھماکوں کے بعد ایئرپورٹ پرموجود عوام میں افراہ تفری کا عالم دیکھنے میں آیا۔

بیلجئم پولیس کے ترجمان کے مطابق افراد ہلاک اورزخمی ہوئے ہیں اورامدادی کاروائیاں جاری ہیں، دھماکوں کی نوعیت کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں بتایا گیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق دھماکوں کے بعد شہرسے ایئرپورٹ آنے والی ٹرین سروس بھی بند کردی گئی ہے اورایئرپورٹ کی جانب آنےوالی ٹریفک کو واپس موڑا جارہا ہے۔


میٹرو اسٹیشن میں بھی دھماکہ


تازہ ترین اطلاعات کے مطابق برسلز کے سنٹرل میٹرو اسٹیشن میں بھی دھماکہ ہوا ہے ، جس میں برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق 15 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ اسٹیشن برسلز کا سنٹرل اسٹیشن ہے، یہ چار منزلہ عمارت ہے اور سارے لندن کو میٹروز یہی سے روانہ ہوتی ہیں جبکہ یورپ کے لئے ٹرین کی روانگی بھی یہی سے ہوتی ہے۔

دھماکے کے کے بعد بیلجئم کے تمام میٹرواسٹیشن بند کردیے گئےہیں اورتلاشی کا عمل جاری ہے۔


ایئرپورٹ کی تلاشی


دھماکے کے بعد ایئرپورٹ کوبند کرکے سیکیورٹی کلئیرنس کا عمل شروع کیا گیا جس کے نتییجے میں تین مزید بم برآمد ہوئے۔

دو بم ایرپورٹ کے لاؤنج سے برآمد ہوئے جبکہ ایک بم ایئرپورٹ کے رن وے سے برآمد ہوا، تینوں بموں کو ناکارہ بنادیا گیا ہے ۔


حکومتِ پاکستان کی مذمت


صدرِ پاکستان ممنون حسین نے بیلجئم کے شہر برسلز میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے دنیا کے امن سبوتاژ کرنے کی سازش قراردیا۔

حکومتِ پاکستان نے برسلز ایئرپورٹ اورمیٹرو اسٹیشن حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئےسانحے میں ہلاک اورزخمی ہونے والے افراد کےلواحقین سے اظہارِ افسوس کیا۔

دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اوراس کے خلاف صف آراہونے کا عزم رکھتا ہے۔

اے آروائی نیوزکے بیلجئم میں موجود نمائندے ندیم بٹ کے مطابق بیلجئم میں سیکیورٹی اطلاعات موجود تھیں جن کے سبب گزشتہ چارماہ سے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے۔

ایئرپورٹ اورشہر کی اہم عمارتوں کے علاوہ سڑکوں پربھی فوج تعینات تھی، ایسا بیلجئیم میں گزشتہ تین دہائیوں میں پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے۔

واضح رہے کہ برسلز یورپی یونین کا ہیڈ کوارٹرہے اور پورے یورپ سے یہاں اہم شخصیات کی آمد ورفت کا سسلسلہ جاری رہتا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکوں کا نشانہ بننے والا ایئرپورٹ سب سے بڑا ایئرپورٹ ہے اوریہاں ہر دس منٹ میں کئی پروازوں کی آمد ورفت ہوتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں