اتوار, جولائی 19, 2026
اشتہار

بجٹ میں ایکسپورٹرز اور کراچی کے لیے کچھ نہیں ہے، عہدے دار کراچی چیمبر

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (13 جون 2026): کراچی چیمبر کے عہدے داروں نے بجٹ کو ففٹی ففٹی قرار دے دیا ہے۔

سرپرستِ اعلیٰ زبیر موتی والا کہتے ہیں کہ بجٹ میں ایکسپورٹرز کے لیے کچھ نہیں ہے، انھوں نے کہا بجٹ میں کراچی کے لیے بھی کچھ نہیں ہے، واضح رہے کہ پانی کے کے-فور منصوبے پر 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جس سے یہ منصوبہ ایک سے دو سال مزید تاخیر کا شکار ہوگا۔کراچی چیمبر آف کامرس

کراچی چیمبر آف کامرس میں وفاقی بجٹ پر بزنس کمیونٹی نے ملے جلے ردِعمل کا اظہار کیا۔ سابق صدر اور بی ایم جی کے چیئرمین زبیر موتی والا نے کہا کہ بجٹ میں ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ جب ایکسپورٹ نہیں بڑھے گی تو ڈالر کہاں سے آئیں گے۔

قائم مقام صدر محمد رضا نے کہا کہ بجٹ میں سپر ٹیکس کم کرنا اور رئیل اسٹیٹ پر ٹیکس ریلیف اچھا اقدام ہے، تاہم ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے کوئی اقدام نظر نہیں آیا۔ سابق صدر ادریس میمن نے کہا کہ بزنس کمیونٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ انڈسٹریل اور کمرشل امپورٹس میں فرق کو ختم کیا جائے، ایکسپورٹرز نے فکسڈ ٹیکس کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا، جسے بحال نہیں کیا گیا۔


کراچی کے صنعت کاروں نے بجٹ 2026-27 کو صنعت کی بحالی کے لیے ناکافی قرار دے دیا


سابق نائب صدر ابراہیم قاسم بی نے کہا کہ فنانس بل سامنے آئے گا تو اصل بجٹ سامنے آئے گا، بزنس کمیونٹی نے کہا کہ بجٹ میں انرجی کاسٹ میں کمی بنیادی مطالبہ تھا، جو بجٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ ٹیکس ریونیو کلیکشن کا ہدف 15 ہزار ارب روپے کر دیا گیا، یہ کیسے پورا ہوگا، یہ نہیں بتایا گیا۔ برآمدات کے فروغ اور روزگار بڑھانے کے لیے اقدامات بھی بجٹ میں نظر نہیں آئے۔

اہم ترین

انجم وہاب
انجم وہاب
انجم وہاب اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں اور تجارت، صنعت و حرفت اور دیگر کاروباری خبریں دیتے ہیں

مزید خبریں