اسلام آباد (06 جون 2026): آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ایکسپورٹرز کو سہولتیں دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، اور امکان ہے کہ برآمد کنندگان کو 70 ارب روپے کا ریلیف دیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال ایکسپورٹرز کے لیے ایک فی صد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کا امکان ہے، برآمدات پر ایک فی صد ایڈوانس ٹیکس کی وجہ سے ایکسپورٹرز کے ری فنڈ کلیمز کلیئر نہیں ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایک فی صد ایڈوانس ٹیکس ختم ہونے سے ایکسپورٹ کے ٹیکس ری فنڈ کے کلیمز ختم ہو جائیں گے۔
تاہم دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نظام نہ اپنانے والے برآمد کنندگان کے ٹیکس ریفنڈز روکنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، اور آئندہ بجٹ میں برآمد کنندگان کے لیے اس حوالے سے نئی شرط متوقع ہے، ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم نہ لگانے والوں کے سیلز ٹیکس ریفنڈز رک سکتے ہیں۔
بجٹ میں ججوں کی رہائش گاہوں کیلئے کروڑوں کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز
امکان ہے کہ ڈیجیٹل آئی سسٹم اور ڈیجیٹل انوائسنگ لازمی قرار دے دیا جائے گا، جس سے ٹیکسٹائل، لیدر، سرجیکل، قالین اور اسپورٹس گڈز سیکٹر متاثر ہو سکتے ہیں، ایف بی آر فاسٹر سسٹم میں نیا رسک پیرامیٹر شامل کرے گا، اور برآمد کنندگان کے لیے ریفنڈز کا حصول ڈیجیٹل کمپلائنس سے مشروط ہوگا۔
ذرائع کے مطابق 5 بڑے برآمدی شعبوں کو ماہانہ 30 سے 40 ارب روپے ریفنڈز ادا کیے جاتے ہیں، دودھ، گھی، اسٹیل اور ٹیکسٹائل سیکٹر پہلے ہی مانیٹرنگ سسٹم کی زد میں ہیں۔


