The news is by your side.

بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی بندش میں توسیع

کوئٹہ: شدید بارشوں اور سیلابی صورتِ حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بلوچستان حکومت نے صوبے میں تعلیمی اداروں کی بندش میں توسیع کر دی ہے۔

وزیر تعلیم بلوچستان نصیب اللہ مری کا کہنا ہے کہ صوبے میں تعلیمی ادارے مزید پانچ روز کے لیے بند رہیں گے، تمام سرکاری و نجی اسکولز پیر سے جمعہ تک بند رہیں گے۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم کا بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے کا اعلان

نصیب اللہ مری نے کہا کہ فیصلہ سیلاب و بارشوں کی تباہی کے باعث کیا گیا ہے، سرکاری تعلیمی اداروں میں سیلاب زدگان کو ٹھہرایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بیشتر اسکولوں میں سیلاب کا پانی بھی موجود ہے۔

دوسری جانب صوبے میں بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے 27 گرڈ اسٹیشنز کو بجلی کی فراہمی معطل ہوچکی ہے جس کی وجہ سے بیشتر علاقوں میں بجلی غائب ہے۔

کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے مطابق کوئٹہ میں بی بی نانی پل کے قریب این ٹی ڈی سی کے 10 اور پیر غائب کے علاقے میں کیسکو کے 132 کے وی کے 3 ٹاور گرے ہیں۔

کیسکو کا کہنا ہے کہ 220 کے وی سبی، کوئٹہ، 132 کے وی سبی، کوئٹہ اور 220 کے وی دادو، خضدار ٹرانس میشن لائنوں سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

کیسکو کے مطابق مستونگ، نوشکی، چاغی، خاران اور دالبندین کے علاقوں کو بھی بجلی کی فراہمی معطل ہے، مجموعی طور پر صوبے کے 27 گرڈ اسٹیشنز کو بجلی کی فراہمی تا حال معطل ہے۔

کیسکو حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو معمول پر آنے میں کم از کم ایک ہفتہ لگ سکتا ہے، صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو متبادل ذرائع سے بجلی فراہم کی جارہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں