The news is by your side.

Advertisement

موحولیاتی آلودگی، برطانوی پولیس نے احتجاج کی علامت کشتی کے ساتھ کیا کیا

لندن : برطانوی پولیس نے وسطی لندن نے وہ گلابی کشتی ہٹا دی جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف مظاہرے کرنے والوں کا مرکز بنی ہوئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق اطالوی دارالحکومت روم میں موسمیاتی تبدیلی کےلیے کام کرنے والے رضاکاروں نے دنیا میں پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے شہریوں میں شعور اجاگر کرنے اور مقتدر اداروں کے خلاف اقدامات نہ کرنے پر شدید احتجاج کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ گلابی کشتی کو آکسفورڈ سرکس چورنگی سے ہٹائے جانے کے بعد سینکڑوں مظاہرین دوبارہ آکسفورڈ سرکس کی جانب سے چلےگئےہیں تاکہ ٹریفک روکا جاسکے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ میٹروپولیٹن پولیس نے پیر سے اب تک 682 مظاہرین کو حراست میں لے چکی ہے جبکہ جمعے کے روز بھی پولیس نے 106 افراد کو گرفتار کیا تھا جو موسمیاتی تبدیلی خلاف احتجاج کررہے تھے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں مشہور اداکارہ ڈیمے ایما تھامسن بھی شامل ہوگئیں تھیں، اداکارہ نے گلابی کشتی پر کھڑے ہوکر مظاہرین سے کہا تھا کہ ’ان کے زمانے کے جوان افراد ناکام ہوگئے تھے‘۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 60 سالہ اداکارہ جمعرات کے روز مظاہرے میں شریک ہوئی تھیں جب وہ لاس اینجیلس سے برطانیہ پہنچی تھی، اداکارہ کا کہنا تھا کہ ’مجھے احتجاج میں شریک ہوکر بہت خوشی ہورہی ہے کہ میری آواز بھی جوانوں کی آواز میں شامل ہوگئی جو ماحولیاتی تبدلی مہم چلارہے ہیں۔

میڈیا ذرائع کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے برطانوی داالحکومت لندن وسط میں گزشتہ 5 روز سے مظاہرے جاری ہیں اور اب تک سینکڑوں افراد گرفتار بھی ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں : ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف اطالوی دارالحکومت میں شدید احتجاج

واضح رہے کہ برطانوی دارالحکومت لندن کے میئر صادق خان نے مظاہرین پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ٹیوب سروس بند کرنے سے متعلق دوبارہ سوچیں، آپ لندن کے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں‘۔

ٹویٹر پر پوسٹ کردہ اپنے پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ مزید لوگوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال پر ، پیدل چلنے اور سائیکل چلانے پر راغب کرنا یقیناً ایک مشکل امر ہے، اور اسی کے ذریعے اس موسمیاتی ایمرجنسی کا سدباب کیا جاسکتا ہے۔ لندن کے لاکھوں باشندے اپنے معمولاتِ زندگی انجام دینے کے لیے روز مرہ کی بنیاد پر انڈر گراؤنڈ نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں