لوگوں کو ماروائے عدالت قتل کرنے سے کراچی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، مصطفیٰ کمال
The news is by your side.

Advertisement

لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے سے کراچی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، مصطفیٰ کمال

کراچی: پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اگر جماعت کے پلیٹ فارم سے غلط کام ہو تو اس کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے، جیلوں میں قید اور لاپتہ لوگوں کو قتل کرنے سے مسئلے کا حل نہیں نکلے گا، مہاجروں کے مینڈیٹ کو تقسیم کرنے کا فیشن نکل آیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی ایس پی کے مرکز پاکستان ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اگر کوئی نوجوان ہمارے پاس غلط کام چھوڑ کر آئے اور اچھا شہری بننے تو تمام پاکستانیوں اور اداروں کو ہمارا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ میرے پلیٹ فارم سے غلط کام ہو تو میں ذمہ دار ہوں، ماضی میں غلط کاموں کے لیے استعمال ہونے والے لوگ توبہ کر کے ہم سے رابطہ کررہے ہیں، لوگ ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں اس لیے اپنے ماضی پر نادم ہیں، میں سب لوگوں کو باہر نکال سکتا ہوں مگر یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جیلوں میں تقریبا 1400 لوگ قید اور 150 سے زائد لاپتہ ہیں، فاروق ستار کے کوارڈیننٹر کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا اور اُس کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی، فاروق ستار صاحب اب ایک پارٹی کے قائد ہیں مگر وہ بھی اس معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

پی ایس پی کے سربراہ نے کہا کہ کچھ طاقت ور اداروں کی حراست میں لوگ قتل ہوئے جس کی وجہ سے عوام مزید متنفر ہوئے، یہ مسئلے کا حل نہیں ہے کیونکہ ایسے لوگ اداروں کے لیے اچھی سوچ نہیں رکھتے اور وہ کسی کے ہاتھوں استعمال ہوجاتے ہیں۔

چیئرمین پاک سرزمین پارٹی سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم نے لوگوں کو پرانی باتیں بھول کر نئی جہد کا آغاز کرنے کا درس دیا، اداروں کو کراچی کے لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے سیاسی اور فلاحی پیکیچ دینا ہوں گے ورنہ کراچی میں قائم ہونے والا امن ڈی ریل ہوسکتاہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں