بیروت: اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے دھمکی دیتے ہوئے جنوبی لبنان کو“حزب اللہ کے لیے قتل گاہ قرار دے دیا، یہ اعلان دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والے تاریخی امن مذاکرات کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے کہا کہ یہ زون اسرائیلی سرحد سے لے کر شمال میں دریائے لیتانی تک پھیلا ہوگا۔
دوسری جانب، اسرائیلی حملے میں جنوبی قصبے میفدون میں زخمیوں کو بچانے کی کوشش کرنے والے کم از کم تین پیرا میڈکس جاں بحق ہو گئے۔
بیروت کی وزارت صحت نے اس حملے کو سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیل کسی بھی طرح امدادی کارکنوں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکنا چاہتا ہے۔
وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے حزب اللہ کے خلاف جاری جنگ کے بعد سے اب تک 91 طبی کارکن مارے جا چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 2,100 سے زائد لبنانی شہری شہید ہوچکے ہیں۔
گزشتہ روز اسرائیل نے مزید حملے کرتے ہوئے بیروت سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب میں ساحلی شاہراہ پر دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا، جو حزب اللہ کے روایتی مضبوط علاقوں سے باہر واقع ہیں۔ فائر فائٹرز نے ایک وین میں لگنے والی آگ بجھائی جبکہ امدادی کارکنوں نے ملبے سے انسانی باقیات نکالیں۔
لبنان نے اسرائیلی بمباری پر اقوام متحدہ میں شکایت درج کرادی
حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ نے کہا کہ تنظیم کے جنگجو“دشمن فوجیوں کو اہم جنوبی قصبے بنت جبیل پر قبضہ کرنے سے روک رہے ہیں، جو سرحد سے 5 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


