پیر, ستمبر 7, 2026
اشتہار

بزنس ویزے پر پاکستان آئے 3 چینی شہریوں کی مبینہ غیر قانونی حراست کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : بزنس ویزے پر پاکستان آئے تین چینی شہریوں کی مبینہ غیر قانونی حراست کا معاملہ عدالت پہنچ گیا تاہم عدالت نے جواب جمع کرانے کے لیے ایک روز کی مہلت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق بزنس ویزے پر پاکستان آنے والے تین چینی شہریوں کی مبینہ غیر قانونی حراست کے معاملے پر درخواست دائر کردی گئی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شاہ رخ ارجمند نے مترجم محمد ناصر کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ تینوں چینی شہری باقاعدہ بزنس ویزے پر پاکستان آئے تھے۔ 11 اگست 2026 کو اسپارکو پلازہ، گلبارگ گرینز میں ایف آئی اے، این سی سی آئی اے اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کی۔

درخواست میں کہا گیا کہ کارروائی کے بعد ایف آئی اے نے فارنرز ایکٹ کے تحت 258 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، جبکہ این سی سی آئی اے نے پیکا ایکٹ اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعات کے تحت 114 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ تینوں چینی شہری دونوں مقدمات میں نہ تو نامزد ہیں اور نہ ہی مطلوب ملزم ہیں، اس کے باوجود انہیں حراست میں رکھا گیا ہے۔

درخواست میں مزید بتایا گیا کہ چیف کمشنر اسلام آباد نے 11 اگست کو اسپارکو پلازہ کو سب جیل قرار دیا، تاہم 14 اگست کو اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا اور 15 اگست کو دوبارہ پلازہ کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ بغیر کسی قانونی جواز، گرفتاری میمو یا عدالتی حکم کے شہریوں کو حراست میں رکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت سے استدعا کی گئی کہ تینوں چینی شہریوں کو فوری طور پر عدالت میں پیش کرنے اور مبینہ غیر قانونی حراست سے رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

سماعت کے دوران عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ تینوں شہریوں کی حراست سے متعلق رپورٹ کہاں ہے؟ جس پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مہلت دی جائے، مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کردی جائے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرکاری اداروں کو جواب جمع کرانے کے لیے ایک روز کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

اہم ترین

مزید خبریں