فیس بک جمہوریت پر غلط اثرات مرتب کررہی ہے، انتظامیہ کا اعتراف facebook
The news is by your side.

Advertisement

فیس بک جمہوریت پر غلط اثرات مرتب کررہی ہے، انتظامیہ کا اعتراف

سانس فرانسسکو: سماجی رابطے کی سب سے بڑی ویب سائٹ کے عہدیدار نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ فیس بک کی وجہ سے جمہوریت پر غلط اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق فیس بک کا شمار سماجی رابطے کی اُن ویب  سائٹس میں ہوتا ہے جس کے دنیا بھر میں کروڑوں صارفین موجود ہیں اور وہ ہمہ وقت اپنے آئی ڈیز سے اپنے خیالات شیئر کرتے رہتے ہیں۔

ایک سال قبل ہونے والے امریکی انتخابات کے بعد فیس بک پر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے قدغن لگانے کی کوشش کی گئی تھی جس میں وائٹ ہاؤس نے الزام عائد کیا تھا کہ صدارتی انتخابات کے نتائج میں فیس بک کا بہت عمل دخل رہا جبکہ مارک زکر برگ ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرچکے تھے۔

مزید پڑھیں: فیس بک کا غیر متعلقہ پوسٹس اور دوستوں سے تنگ صارفین کے لیے نیا فیچر متعارف

فیس بک کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر ایک بلاگ پوسٹ کیا گیا جس میں اُن کے عہدیدار نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ’سماجی رابطے کی سب سے بڑی ویب سائٹ جمہوریت پر غلط اثرات مرتب کررہی ہے‘۔

ٹیم کے سربراہ سمت چکرورتی نے اعتراف کیا کہ ’2016 میں فیس بک میں کام کرنے والوں نے اس بات کو سمجھنے میں بہت زیادہ دیر کردی تھی کہ ہمارے پلیٹ فارم کو مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کے باعث معاشرے پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں‘۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ فیس بک ایسا پلیٹ فارم بن جائے جہاں پر عالمی سیاست کے منفی اثرات مرتب نہ ہوں اور ہر صارف اخلاقی اقدار میں رہتے ہوئے اپنے آئی ڈی کو استعمال کرے‘۔

یہ بھی پڑھیں: فیس بک پر ’گڈ مارننگ‘ اسٹیٹس جرم بن گیا، نوجوان گرفتار

سمت چکرورتی کا کہناتھا کہ ’ہمیں اپنے اردگرد رہنے والوں کو یہ سمجھانےکی اشد ضرورت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو کس طریقے سے استعمال کیا جائے اور اسے کس طرح اعتبار کے قابل بنایا جائے‘۔

واضح رہے کہ فیس بک کے بانی نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ آئندہ جعلی خبریں پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں گے کیونکہ غلط خبروں کی وجہ سے معاشرے میں انتشار پھیل رہا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں