The news is by your side.

Advertisement

فیس بک نے میانمار کی فوج سے متعلق اکاؤنٹس پر پابندی عائد کردی

سوشل نیٹ ورکنگ سروس کمپنی فیس بک نے میانمار کی فوج سے متعلق صفحات اور اکاؤنٹس پر پابندی عائد کردی، میانمار نے یکم فروری کو حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق سوشل نیٹ ورکنگ سروس کمپنی فیس بک نے کہا ہے کہ وہ اپنی سائٹس فیس بک اور انسٹا گرام سے، میانمار کی فوج، فوج کے زیر کنٹرول میڈیا اداروں کے صفحات اور اکاؤنٹس، اور فوج سے وابستہ تجارتی تنظیموں کے اشتہارات پر پابندی عائد کر رہے ہیں۔

فیس بک کے مطابق ملک میں یکم فروری کو ہونے والے تشدد سمیت حکومت کا تختہ الٹنے کے واقعات کے تناظر میں یہ پابندی عائد کرنا ضروری ہوگیا ہے۔

یاد رہے کہ میانمار میں یکم فروری کو فوج نے ملک کے اقتدار پر قبضہ کر کے ایک برس کے لیے ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا، فوج نے گزشتہ برس 8 نومبر کو عام انتخابات کے دوران ووٹنگ میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کو اپنے اقدام کے جواز کے طور پر پیش کیا تھا۔

انتخابات میں نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) پارٹی نے فتح حاصل کی تھی، فوج نے کہا تھا کہ وہ جمہوری نظام کے تحفظ اور ایمرجنسی ختم ہونے کے بعد منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے پرعزم ہے۔

فوجی بغاوت کے بعد میانمار کی اسٹیٹ کونسلر آنگ سان سوچی، صدر ون منٹ اور دیگر اعلیٰ عہدیداران کو حراست میں لے لیا گیا تھا اور ان پر انتخابی دھوکہ دہی کا الزام لگایا گیا تھا۔

فوج کے اقتدار پر قبضے کے خلاف تاحال میانمار میں مظاہرے جاری ہیں، مظاہروں کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں اور چار افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔

امریکا اور برطانیہ نے میانمار کی فوج سے متعلق متعدد معاملات پر پابندی عائد کردی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں