بدھ, جون 17, 2026
اشتہار

میٹا نے فیس بک پر جاری تحقیق کیوں روکی؟ سنسنی خیز انکشاف

اشتہار

حیرت انگیز

میٹا اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف دائر کیے گئے امریکی تعلیمی اداروں کے ایک مقدمے میں جو دستاویزات سامنے آئیں، اُن سے معلوم ہوا کہ میٹا نے فیس بک اور انسٹاگرام کے ذہنی صحت پر اثرات سے متعلق اپنی اندرونی تحقیق اس وقت روک دی جب نتائج کمپنی کے لیے خطرناک ثابت ہونے لگے۔

’’پروجیکٹ مرکری‘‘ کے عنوان سے ہونے والی اندرونی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ جو صارفین ایک ہفتے تک فیس بک استعمال نہیں کرتے تھے، وہ افسردگی، اضطراب اور تنہائی میں واضح کمی محسوس کرنے لگتے تھے۔

کمپنی کے خلاف ان منفی نتائج کو شائع کرنے یا مزید تحقیق کرنے کی بجائے میٹا نے یہ پروجیکٹ ہی منسوخ کر دیا اور کہا کہ نتائج میڈیا بیانیے کے ساتھ ’’الجھ‘‘ گئے ہیں۔ جب کہ کمپنی کے سائنس دانوں نے اپنی قیادت، خصوصاً میٹا کے عالمی پالیسی چیف نِک کَلیگ کو یہ یقین دلایا تھا کہ یہ نتائج بالکل درست ہیں، یعنی نتائج میں ان سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے۔

میٹا کونسے صارفین کے اکاؤنٹس بند کررہا ہے؟

یہ تحقیق میٹا کے سائنس دانوں نے نیلسن کمپنی کے ساتھ 2020 میں کی تھی، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ فیس بک اور انسٹاگرام کا استعمال اگر روک دیا جائے تو اس کے اثرات کیا مرتب ہوں گے۔ لیکن دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ کمپنی اس وقت مایوس ہوئی جب اسے یہ معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے ایک ہفتے تک فیس بک استعمال نہیں کی، انھوں نے افسردگی، اضطراب، تنہائی اور کمتری کے جذبات میں کمی کی رپورٹ دی۔

ایک ملازم نے انکشاف کیا کہ ان نتائج کو چھپانا ایسے ہی ہے جیسے تمباکو کمپنیاں اپنے نقصان دہ حقائق چھپاتی تھیں۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ میٹا کی تحقیق خود یہ ثابت کرتی تھی کہ اس کی مصنوعات اور ذہنی صحت کے منفی اثرات کے درمیان باقاعدہ تعلق موجود ہے۔ لیکن میٹا نے کانگریس کو بتایا کہ وہ یہ تعین نہیں کر سکتی کہ اس کی مصنوعات نابالغ لڑکیوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ میٹا کے ترجمان نے اپنے دفاع میں کہا کہ تحقیق کو اس لیے روکا گیا کہ اس کے طریقہ کار میں خامیاں تھیں اور کمپنی اپنی مصنوعات کی حفاظت کے لیے کام کر رہی ہے۔

مقدمے میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ میٹا، گوگل، ٹک ٹاک، اور اسنیپ چیٹ نے جان بوجھ کر اپنے پلیٹ فارمز کے خطرات والدین، اساتذہ اور صارفین سے چھپائے۔ دعوؤں کے مطابق یہ کمپنیاں 13 سال سے کم عمر بچوں کو اپنی ایپس استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہیں اور بعض اوقات بچوں کی حفاظت پر کام کرنے والی تنظیموں کو اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے مالی مدد بھی دیتی ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں