The news is by your side.

Advertisement

میٹا کو اہم سروس فروخت کرنے کا حکم

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کو جی آئی ایف تصاویر بنانے میں مدد فراہم کرنے والی سروس گفی کو فروخت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ گفی کو استعمال کرنے کے لیے صارفین کے زیادہ ڈیٹا کی فراہمی کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق میٹا (فیس بک) کو برطانوی مسابقتی ادارے نے جی آئی ایف تصاویر بنانے میں مدد فراہم کرنے والی سروس گفی کو فروخت کرنے کا حکم دیا ہے۔

خیال رہے کہ مئی 2020 میں فیس بک نے گفی کو خرید کر انسٹاگرام کا حصہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

اس موقع پر فیس بک کے پراڈکٹ شعبے کے نائب صدر وشال شاہ نے ایک بلاگ پوسٹ میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انسٹاگرام اور گفی کو اکٹھا کر کے ہم لوگوں کے لیے اسٹوریز اور ڈائریکٹ میں بہترین گفس اور اسٹیکرز کی تلاش کو آسان بنا رہے ہیں۔

اب برطانیہ کی کمپیٹیشن اینڈ مارکیٹ اتھارٹی (سی ایم اے) نے کہا ہے کہ کروڑوں سوشل میڈیا صارفین کے تحفظ اور فیس بک کو سوشل میڈیا میں اپنی طاقت میں اضافے کو روکنے کے لیے یہ اقدام ضروری ہے۔

سی ایم اے کی جانب سے 2020 میں میٹا کی جانب سے 40 کروڑ ڈالرز کے عوض گفی کی ملکیت حاصل کرنے پر تحقیقات کا آغاز مسابقتی خدشات کے باعث کیا گیا تھا۔

گفی کو متعدد سوشل نیٹ ورکس جیسے اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور ٹوئٹر کے صارفین بھی استعمال کرتے ہیں۔

برطانوی ادارے کا کہنا ہے کہ میٹا اپنی مخالف ایپس کو اینی میٹڈ تصاویر کی سپلائی روک سکتی ہے یا گفی کو استعمال کرنے کے لیے صارفین کے زیادہ ڈیٹا کی فراہمی کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔

سی ایم اے کا مزید کہنا ہے کہ فیس بک کی ملکیت میں جانے سے برطانیہ کی ڈسپلے ایڈورٹائزنگ مارکیٹ سے ایک اہم کمپنی باہر ہو رہی ہے جہاں فیس بک کو پہلے ہی 50 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل ہے۔

سی ایم اے کے مطابق یہ باعث تشویش ہے کہ فیس بک کی جانب سے گفی کی اشتہاری سروسز کو ختم کیا جارہا ہے جس کو میٹا نے دونوں کمپنیوں کو اکٹھا کرنے پر بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ فیس بک کو گفی کو فروخت کرنے پر مجبور کر کے ہم کروڑوں سوشل میڈیا صارفین کا تحفظ کریں گے اور ڈیجیٹل اشتہارات میں مسابقت کو فروغ دیں گے۔

دوسری جانب میٹا نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ خریداری کا معاہدہ گفی، صارفین اور اداروں کے لیے بہترین ہے۔

میٹا کے ایک ترجمان نے کہا کہ ہم اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے، ہم اس کا جائزہ اور اپیل سمیت تمام آپشنز پر غور کررہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں