ہفتہ, اگست 8, 2026
اشتہار

فیس بک پر لاشیں فروخت کرنے والے کے گھر میں داخل ہو کر پولیس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے

اشتہار

حیرت انگیز

پنسلوینیا (13 جنوری 2026): امریکی ریاست پنسلوینیا میں ایک ایسا دہل دہلا دینے والا کیس سامنے آیا ہے، جس نے لوگوں کو ششدر کر دیا ہے، پولیس قبرستان سے ایک شخص کو گرفتار کر کے جب تلاشی کے لیے اس کے گھر میں داخل ہوئی تو ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

اسے بلاشبہ امریکا کا سب سے خوف ناک گھر کہا جا سکتا تھا، جس کے مالک 34 سالہ جوناتھن گیرلاک کو اس وقت 500 سے زائد الزامات کا سامنا ہے، تفتیش کاروں کے مطابق اس کے گھر سے انسانی ڈھانچوں کی 100 سے زیادہ باقیات برآمد ہوئیں۔

پنسلوینیا کے شہر ییڈن میں واقع ماؤنٹ موریا قبرستان میں پراسرار طور پر قبروں کو توڑنے کے واقعات سامنے آنے لگے تھے، پولیس نے ایک ماہ طویل تفتیش کی تو انکشاف ہوا کہ ان واقعات کے پیچھے جوناتھن گیرلاک ہے، جس کو پولیس نے 6 جنوری کو گرفتار کر لیا، پولیس کے مطابق نومبر کے اوائل سے اب تک کم از کم 26 مقبرے اور زیرِ زمین قبریں توڑ کر کھولی گئی تھیں۔

گیرلاک کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک لوہے کی سلاخ اور ایک بوری اٹھائے اپنی گاڑی کی طرف واپس جا رہا تھا۔ اس بوری سے پولیس نے 2 کم عمر بچوں کی ممی شدہ لاشیں، 3 کھوپڑیاں اور دیگر ہڈیاں برآمد کیں۔ اطلاعات کے مطابق اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے تقریباً 30 افراد کی انسانی باقیات چرائیں اور انھیں وہ قبریں بھی دکھائیں جہاں سے یہ باقیات نکالی گئی تھیں۔

آخرکار یہ کیس پولیس کو ایک ایسے تہہ خانے تک لے گیا جو انسانی اعضا سے بھرا ہوا تھا، لنکاسٹر کاؤنٹی کے علاقے ایفراٹا میں واقع گیرلاک کے گھر کی تلاشی کے دوران 100 سے زائد انسانی کھوپڑیاں، لمبی ہڈیاں، ممی شدہ ہاتھ اور پاؤں، دو سڑتے ہوئے دھڑ اور دیگر ڈھانچے برآمد ہوئے۔

ڈیلاویئر کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ٹینر راؤس نے صحافیوں کو بتایا ’’تفتیش کار ایک ایسے گھر میں داخل ہوئے جہاں کا منظر کسی ہارر فلم کی طرح تھا، یہ ایک ناقابلِ یقین منظر تھا۔ وہاں کچھ لاشوں کی باقیات لٹکی ہوئی تھیں، کچھ کو جوڑ کر رکھا گیا تھا، کچھ صرف شیلف پر رکھی ہوئی کھوپڑیاں تھیں، گھر سے قبروں سے ملنے والے زیورات بھی برآمد ہوئے۔

پولیس کے مطابق ایک انسانی ڈھانچے کے ساتھ پیس میکر بھی اب تک جڑا ہوا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گیرلاک نے قبرستان میں موجود مقبروں اور زیرِ زمین قبروں کو نشانہ بنایا، جو ملک کا سب سے بڑا متروک قبرستان تصور کیا جاتا ہے۔

فیس بک گروپ


حکام نے ایک فیس بک گروپ ’’ہیومن بونز اینڈ اسکل سیلنگ گروپ‘‘ کی بھی تفتیش کی، جہاں گیرلاک کو ٹیگ کیا گیا تھا اور اس کی ایک تصویر موجود تھی جس میں وہ ایک انسانی کھوپڑی پکڑے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر گیرلاک نے کھوپڑیوں کی 100 سے زائد تصاویر اپ لوڈ کی تھیں، اور یہ ہڈیاں فروخت کے لیے پیش کی گئی تھیں۔

قدیم جزیرے پر انسان نما مخلوق کے شواہد مل گئے

پنسلوینیا میں گیرلاک پر لاشوں کی بے حرمتی اور چوری شدہ املاک رکھنے کے 100، 100 الزامات عائد کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ عوامی یادگار کی بے حرمتی، قابلِ احترام اشیا کی توہین، تاریخی قبرستان کی بے حرمتی، نقب زنی، غیر قانونی داخلہ اور چوری کے متعدد الزامات بھی شامل ہیں۔ اسے 10 لاکھ ڈالر کے ضمانتی مچلکوں پر جیل میں رکھا گیا ہے۔

اپنے ایک سرکاری بیان میں ییڈن بورو پولیس ڈیپارٹمنٹ نے کہا ’’یہ ایک انتہائی ہول ناک جرم تھا جس نے ہماری برادری کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ میں ڈیٹیکٹو لیا سیزانیک، ییڈن بورو پولیس ڈیپارٹمنٹ اور ہمارے تمام قانون نافذ کرنے والے شراکت داروں کی انتھک محنت پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم ماؤنٹ موریا قبرستان کے دوستوں کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے ابتدا ہی سے بھرپور تعاون کیا۔‘‘

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں