The news is by your side.

Advertisement

کینسر، ایڈز اور کرونا وائرس کی تحقیقات اور ویکسین، فیس بک پوسٹ کی حقیقت کیا ہے؟

آسٹریلیا میں ان دنوں ایک فیس بک پوسٹ کا بہت زیادہ تذکرہ کیا جارہا ہے جس میں صارف نے کرونا، کینسر ، عام سردی کی بیماریوں اور ایچ آئی وی ایڈز کی تحقیقیات کا موازنہ کرنے کی کوشش کی۔

فیس بک پر ہونے والی پسٹ کو اب تک ہزاروں صارفین شیئر کرچکے ہیں۔ اس پوسٹ میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ چالیس سال کی تحقیقات کے باوجود ایڈز کی ویکسین ابھی تک نہیں آئی جبکہ 100 سال سے زیادہ ہوگئے اور کینسر کی ویکسین نہیں آئی۔

پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ سردی کی عام بیماریوں کی پر تحقیقات جاری ہیں اُن کی کوئی ویکسین نہیں آئی تو پھر 6 ماہ میں کرونا کی ویکسین کیسے متعارف ہوگئی۔

فیس بک پر یہ پوسٹ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے صارف نے شیئر کی، جس میں کیے جانے والے موازنے اور دعوے کو ماہرین نے حقائق کی روشنی میں غلط ثابت کیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کو ماہرین نے بتایا کہ سارس کوو 2 کو عالمی ادارہ صحت نے اکتیس دسمبر 2019 کو کوویڈ 19 کا نام دیا۔ یہ وائرس دنیا بھر میں پھیلا جس سے 72 ملین لوگ متاثر ہوئے جبکہ 16 لاکھ سے زائد مریضوں کی اموات بھی ہوئیں۔

ماہرین نے فیس بک پر کیے جانے والے دعوے کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ایچ آئی وی انسانی جسم میں موجود خلیات پر حملہ کرتا ہے، یہ انفیکشن یا بیماری مدافعتی نظام کو تباہ نہیں کرتی اور عام طور پر وائرس ایک دوسرے سے ملاپ سے پھیلتا ہے۔

ماہرین نے  بتایا کہ ایڈز کے حوالے سے اب تک کئی مؤثر ادویات متعارف ہوچکی ہیں جو مدافعتی نظام کو مضبوط بنا کر وائرس کے خطرے کو کم کرتی ہیں جبکہ متاثرہ شخص کے بچنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: فیکٹ چیک، کیا ماسک لگانے سے انسان کی موت واقع ہوسکتی ہے؟

آسٹریلین فیڈریشن آف ایڈز آرگنائزیشن کی جانب سے جاری ہونے والی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ اگر بروقت مرض کی تشخیص ہوجائے تو مریض صحت یاب ہوسکتا ہے۔

امریکن نیشنل سینٹر انسٹی ٹیوٹ نے وضاحت کی کہ کینسر متعدی مرض نہیں اور اس میں مریض کے اندورنی خلیات متاثر ہوتے ہیں جو جسمانی اعضاء کو تباہ کردیتے ہیں جس کے نتیجے میں ٹیومر ہوجاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کینسر کے وائرس سے بچاؤ کی دوا اور طریقۂ علاج بھی دریافت ہوچکا ہے جس سے اب تک لاکھوں کی تعداد میں مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

تحقیقی ماہرین نے بتایا کہ کرونا ان ساری بیماریوں کے مقابلے میں متعدی مرض ہے جو آنکھوں کو نظر نہ آنے والے وائرس سے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے جبکہ یہ ہوا یا مختلف دھاتوں پر بھی زندہ رہتا ہے اور یہ انسان کے مدافعتی نظام سمیت نظام تنفس کو بھی متاثر کرتا ہے جس سے موت واقع ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیکٹ‌ چیک: کیا پان چپانے سے کرونا کا خطرہ ٹل جاتا ہے؟

ماہرین کے مطابق کرونا ویکسین مدافعتی نظام کو متحرک کرنے اور اسے مضبوط بنانے کے کام آئے گی جس سے جسم میں موجود وائرس کمزور ہوگا اور پھر اس کی خود ہی موت ہوجائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں