site
stats
پاکستان

گستاخانہ مواد، فیس بک کے نائب صدر آئندہ ماہ پاکستان آئیں گے، چوہدری نثار

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ فیس بک نے توہین مذہب کی 80 سے زائد پوسٹ ہٹا دی ہیں، فیس بک کے نائب صدر آئندہ ماہ پاکستان آئیں گے جن کے ساتھ کئی معاملات طے کیے جائیں گے، بلاک شدہ تین لاکھ شناختی کارڈ میں سے ایک لاکھ غیر ملکیوں کے تھے انہیں منسوخ کرکے بقیہ دو لاکھ بحال کیے جارہے ہیں۔

وہ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے انہوں نے کہا کہ توہین مذہب سے متعلق بیشترپوسٹ ہٹوا دی گئی ہیں جب کہ  بیرون ملک مقیم چند افراد اور منظم گروہ کے حوالے سے معلومات کے حصول کے لیے بین الاقوامی اداروں اور او آئی سی سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ اسلام میں غیر مسلم کے ساتھ بھی زیادتی کی اجازت نہیں ہے لیکن مشال خان کے قتل کے معاملے میں اسلام کا غلط استعمال کیا گیا جس پر بہت غلط پیغام گیا، مردان میں طالبعلم کا قتل سفاکیت کی انتہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشال خان کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا اعلان صوبائی حکومت کا اچھا اقدام ہے ، اس معاملے پر جوڈیشل انکوائری کا انتظار کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ غیرملکیوں کو ویزے، پاسپورٹس اورشناختی کارڈ کا اجرا قومی جرم ہے اورسابقہ دورمیں بغیر سیکیورٹی کلیئرنس کے ہزاروں غیرملکیوں کو ویزے، پاسپورٹ اور ویزے جا ری کیے گئے لیکن ہم نے 3 لاکھ سے زائد شناختی کارڈ بلاک کیے ہیں جن میں سے ایک لاکھ سے زائد شناختی کارڈ غیرملکیوں کے ہیں اس لیے یہ شناختی کارڈ منسوخ کیے جارہے ہیں۔

شناختی کارڈ بحال کرنے کی شرائط

انہوں نے بتایا کہ بلاک شدہ شناختی کارڈز بحال کیے جارہے ہیں جس کے لیے تین دستاویزات درکار ہوں گے جنہیں نادرا آفس لے جائیں تو ضروری جانچ پڑتال کے بعد شناختی کارڈز بحال ہوجائیں گے ان دستاویزات میں 1978 سے پہلے زمین کا کوئی کاغذ یا ڈومیسائل، محکمہ مال کی جانب سے تصدیق کنندہ شجرہ نسب اور تیسرا اپنے یاکسی رشتہ دار کا سرکاری ملازمت کا سرٹیفکیٹ شامل ہیں۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کراچی میں رینجرز کے اختیارات سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ کراچی کا امن بحال کرنے میں رینجرز کا اہم کردار رہا ہے اورکراچی کا بچہ بچہ کہہ رہا ہے کہ آپریشن جاری رہنا چاہئے تاہم بد قسمتی سے رینجرز اختیارات کوہمیشہ مسئلہ بنا دیا جاتا ہے فی الحال رینجرز اختیارات کے نوٹی فکیشن پرسندھ حکومت سے رابطے میں ہیں۔

انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس سے متعلق رپورٹ پر اتفاق ہوگیا ہے جس سے متعلق رپورٹ چند روزمیں پیش کردی جائے گی اور وزیراعظم ہاؤس بھجوا دی جائے گی اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر رپورٹ تیار کی گئی ہے۔

نیپال سے پاکستانی فوج کے سابق افسر کی گمشدگی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص کو دھوکا دے کر پُر کشش مشاہرے پر کسی دوسرے ملک بلایا جاتا ہے اورپھراسے غائب کردیا جاتا ہے جس کے تانے بانے جہاں سے ملتے ہیں اس پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں جس کے لیے نیپالی حکومت کا پورا تعاون حاصل ہے۔

انہوں نے آصف زرداری کے تین مبینہ ساتھیوں کی گمشدگی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ پیپلزپارٹی کو کانٹا بھی چبے تو کہتے ہیں وزیرداخلہ کی وجہ سے ہے جب کہ میں چھپ کر وار نہیں کرتا ہوں اور پہلے بھی واضح کر چکا ہوں کہ لوگوں کواٹھانا ہماری پالیسی یا کام نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تین لوگوں کا غائب ہونا خلاف قانون ہے اسلام آباد سے لاپتہ شخص سے متعلق کچھ شواہدملے ہیں جسے 24 اپریل کوعدالت میں پیش کریں گے اس کے علاوہ سندھ حکومت جومدد مانگے گی فراہم کریں گے تاہم سندھ حکومت بے سروپا الزام تراشی سے گریز کرے تو شکر گذار رہوں گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اصغرخان کیس گزشتہ حکومت میں عدالت نے ایف آئی اے کے حوالے کیا تھا اورایف آئی اے ہی اس مقدمے کو آگے بڑھائے گا کو کہ آزاد اور خود مختار ادارہ ہے اس لیے یہ تاثر غلط ہے کہ وفاقی حکومت دباؤ ڈال رہی ہے یا اثرانداز ہونے کی کوشش کررہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top