The news is by your side.

Advertisement

چین میں چہرہ شناس اے ٹی ایم سے بغیر کارڈ کے ٹرانزیکشن

جینان : زرعی بینک چین نے چہرہ شناس اے ٹی ایم متعارف کرادی جو انگوٹھے کے نشان یا اے ٹی ایم کارڈ کی چپ کو پڑھنے کے بجائے چہرے کے نقوش کو پڑھ کر بینک ٹرانزیکشن کی اجازت دے دیتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چین نے بینک صارفین کے لیے انگوٹھے کے نشان کو پڑھنے والی اے ٹی ایم کے بعد اب چہرہ شناس اے ٹی ایم ایجاد کرلی ہے جو ڈیجیٹل بینک ٹرانزیکشن کے لیے اب تک کی محفوظ ترین ٹیکنالوجی سمجھی جا رہی ہے۔

چین کے زرعی بینک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا مقصد سائبر کرائم، جعلی اے ٹی ایم کارڈ بنانے اور جعلی ٹرانزیکشن کے امکانات کو کم کرنا ہے۔

زرعی بینک چین کے لابی منیجر نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال نہایت سادہ اور محفوظ ہے بس صارف کو چہرے کی اسکیننگ کے لیے مخصوص بٹن دبانا ہوگا اور اپنے چہرے کو کیمرے کے سامنے لانا ہوگا جو چہرے کو اسکین کرلے گا جس کے بعد صارف کو اپنا شانختی کارڈ نمبر اور فون نمبر دینا ہوگا یوں صارف اپنی مطلوبہ سروس حاصل کرنے کا اہل ہوجائے گا اور مطلوبہ رقم نکلوا سکے گا۔

خیال رہے کہ زرعی بینک چین سے قبل چائنا مرچنٹ بینک اور کنسٹریکشن بینک آف چائنا بھی اپنے صارفین کے لیے چہرہ شناس اے ٹی ایم سروس مہیا کر چکے ہیں۔


 اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرنے والے محتاط ہوجائیں 


زرعی بینک چین کے ٹیکنالوجی اسٹاف کا کہنا ہے کہ کیمرے کی ریزولیشن اور دیگر تیکنیکی مسائل کو جدید طریقوں سے دور کر کے اسے محفوظ ترین بنایا گیا ہے جو اغلاط کے امکان کو ختم اور چوری یا دھوکہ دہی کی مکمل روک تھام کرتی ہے۔


 کراچی میں اے ٹی ایم کا استعمال، انڈونیشیا سے رقم چوری 


بینک منیجر کا کہنا ہے کہ اے ٹی ایم کارڈ چوری بھی ہوجاتے ہیں اور جعلی بھی بنائے جا سکتے ہیں اسی طرح انگوٹھے کے نشان میں ردو بدل کا امکان موجود رہتا ہے تاہم چہرہ شناس ٹیکنالوجی میں صارف کو شناختی کارڈ نمبر کے ساتھ ساتھ اپنا موبائل نمبر اور پاس ورڈ بھی دینا ہوتا ہے جس کے باعث چوری یا دھوکہ دہی کا امکان نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں