site
stats
ZARB-E-AZB

پاکستان نے بغیر ثبوت کسی پر الزام تراشی نہیں کی: عاصم باجوہ

پشاور: وارسک حملے میں ملوث ملزمان کے سہولت کاروں کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا گیا ہے، اس مو قع پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بغیر ثبوت کبھی کسی پر الزام عائد نہیں کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وارسک حملے میں ملوث دہشت گردوں کے چار سہولت کاروں کومیڈیا کے سامنے پیش کیا جبکہ بتایا گیا ہے کہ مردان حملے کے بھی تین سہولت کاروں کو قانون کی گرفت میں لے لیا گیا ہے۔

ispr-post-1

ispr-post-2

بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ وارسک کی کرسچن کالونی پر حملے کی منصوبہ بندی ہندوستان میں ہوئی۔ طور خم سے آنے والے دہشت گرد کے پاس دستاویزات موجود تھے‘ اسے آخری پوائنٹ پر خود کش جیکٹ فراہم کی گئی۔

کرسچن کالونی میں دہشت گردوں کا حملہ ناکام

واضح رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں پشاور کے علاقے وارسک روڈ پر صبح سویرے کرسچن کالونی میں دہشت گرد کالونی میں داخل ہوئے تو سیکورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں فورسز نے چاروں دہشت گرد وں کو گھیر کر مار گرایا تھا۔

اسی روز خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان میں ضلع کچہری کے مرکزی دروازے کے قریب خودکش حملہ نے خود کو دھماکے سےاڑادیا جس کے نتیجے میں چار پولیس اہکاروں اور تین وکلاسمیت 12افراد جاں بحق اور60 افراد زخمی ہوگئے تھے

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یکم جولائی سے اب تک 1470 کومبنگ آپریشن اور آئی بی اوز کیے گئے ہیں جن کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں، ان کے مطابق شہری سہولت کاروں کے بارے میں رپورٹ کررہے ہیں جس سے فورسز کو مدد مل رہی ہے۔

پریس بریفنگ میں انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر کوئی بھی مشکوک سرگرمی دیکھیں تو اس کی اطلاع فی الفور متعلقہ اداروں کو دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سرحدوں کو محفوظ بنایا ہے‘ راجگال کے پہاڑی سلسلے میں کلیرینس ہوچکی ہے ‘ بارڈر مینجمنٹ کے لیے سیکورٹی پوسٹیں قائم کی جارہی ہیں اور جن کے قیام کے بعد سرحد سے غیرقانونی آمد ورفت مکمل ختم ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ مشرقی بارڈر کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہرقسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پربغیر ثبوت کے الزام لگائے جارہے ہیں جو افسوس ناک ہے، پاکستان کسی پر بغیر ثبوت الزام عائد نہیں کرتا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top