والد کو تھپڑ مارنے والے شخص پر فائرنگ کرنے والی طالبہ کی وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی۔
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر گزشتہ رواز ویڈیو وائرل ہوئی جس میں اسکول یونیفارم میں ملبوس بچی والد کی گاڑی سے پستول نکالتے ہوئے فائرنگ کردیتی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پیٹرول پمپ پر کوئی شخص بچی کے والد کو تھپڑ مار دیتا ہے اور وہ غصے میں گاڑی کی طرف بڑھتی ہے اور اس پر پستول تان لیتی ہے۔
تاہم تحقیقت سے علم ہوا کہ یہ ویڈیو ’اسکرپٹڈ‘ ہے۔
گزشتہ رواز ایکس صارف جو خود کو سوشل میڈیا انفلوئنسر کہتا ہے یہ ویڈیو شیئر کی اور کیپشن میں لکھا کہ ’کون کہتا ہے بیٹی بوجھ ہے بیٹی تو رحمت ہوتی ہے۔‘ اس کے بعد پوسٹ کو ہزاروں بار دیکھا گیا۔
ایک اور اکاؤنٹ سے یہی ویڈیو شیئر ہوئی اور کیپشن لکھا گیا کہ بہادر بیٹی، والد کا بازو۔‘ اور اس کو بھی لاکھوں ویوز مل گئے۔
اس طرح یہ ویڈیو ٹوئٹر ہی نہیں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم جیسے انسٹاگرام یہاں تک کہ یوٹیوب پر بھی نظر آنے لگی اور لوگ طالبہ کی تعریف کرنے لگے۔
تاہم قومی یا انٹرنیشنل معتبر میڈیا اداروں نے اس طرح کے کسی بھی واقعے کو رپورٹ نہیں کیا۔
ریورس امیج سرچ: یہ ویڈیو یوٹیوب شارٹس پر بھی ملی جو ایک ایسے اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی تھی جو مستقل طور پر اسکرپٹڈ ویڈیوز بناتا ہے۔
اس یوٹیوب اکاؤنٹ کی تفصیلات میں واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ اکاؤنٹ تفریحی سی سی ٹی وی طرز کی اسکرپٹڈ ویڈیوز پوسٹ کرتا ہے جس کا مقصد لوگوں کو آگاہی فراہم کرنا ہے۔
مزید یہ پتا چلا کہ وہی گاڑی جو اس وائرل ویڈیو میں دکھائی دے رہی ہے اس چینل کی دیگر کئی ویڈیوز میں بھی استعمال کی جاچکی ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ یہ وائرل ویڈیو جس میں اسکول کی بچی والد کو ہراساں کرنے والے شخص پر فائرنگ کررہی ہے غلط ہے اور اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں آئی ویریفائی پاکستان کی جانب سے شائع کیا گیا ہے جو سی ای جے، آئی بی اے اور یو این ڈی پی کا ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں




