The news is by your side.

Advertisement

فافن کی شفاف الیکشن میں حائل سرکاری افسران کوجرمانے اور سزائیں دینے کی تجویز

اسلام آباد : فافن نے شفاف الیکشن میں حائل سرکاری افسران کوجرمانے اور سزائیں دینے کی تجویز دیتے ہوئے ووٹوں کی گنتی کے عمل میں مزید بہتری لانے کی ضرورت پر زور دیا۔

تفصیلات کے مطابق ملک میں ضمنی انتخابات سے متعلق فافن کی رپورٹ جاری کردی ، جس میں کہا کہ ضمنی انتخابات کےدوران انتخابی عمل بہتردیکھنےمیں آیا، تاہم سیالکوٹ واقعات کی وجہ سے الیکشن کمیشن کونتیجہ روکناپڑا اور غیرقانونی طورپرانتخابی مہم کےبعدشکایات سامنےآئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کوروناپروٹوکول کےحوالےسےکمزوری محسوس کی گئی جبکہ پولنگ اسٹیشن کےاندرووٹوں کےگنتی کےعمل میں بہتری نظرآئی، اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

فافن کا کہنا ہے کہ سیاسی مخالفین عام طورپراپنی ذمہ داریاں مکمل نہیں نبھاتے، اس کی وجہ سےدوران ووٹنگ ایسےواقعات پیش آتےہیں، این اے 75 کے حوالے سے الیکشن کمیشن نےسنجیدہ اقدامات کیے، پریزائیڈنگ افسران کاغائب ہونادیگرواقعات پرای سی بی اختیارات استعمال کرے، ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

فافن نے شفاف الیکشن میں حائل سرکاری افسران کوجرمانے،سزائیں دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا این اے75ضمنی الیکشن میں ووٹوں کی گنتی میں بے ضابطگیاں دیکھنےمیں آئیں، بےضابطگیوں کےباعث الیکشن کمیشن کواین اے75کانتیجہ روکناپڑا۔

فافن کا رپورٹ میں کہنا تھا میں پولنگ اسٹیشنزکےباہرالیکشن کمیشن کوانتظامی امورمیں بہتری کی ضرورت ہے، نتائج تاخیرسےملنےوالےحلقوں میں الیکشن کمیشن دوبارہ انتخاب کراسکتاہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کوروناایس او پیز خلاف ورزی،غیرقانونی الیکشن مہم، عمومی خلاف ورزیاں سامنےآئیں، قومی اسمبلی کی3،صوبائی اسمبلی کی5نشستوں پرضمنی انتخابات کرائےگئے، جس میں 71فیصدپولنگ اسٹیشنزکےقریب پارٹی کیمپس کی اجازت قواعد کی خلاف ورزی ہے۔

فافن کے مطابق ایک کمرےمیں متعددپولنگ بوتھ قائم کیےگئےجس سےغیرضروری رش ہوا تاہم 8حلقوں میں ووٹوں کی گنتی کےعمل کےدوران خلاف ورزی دیکھنے میں نہیں آئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں