The news is by your side.

Advertisement

نیکاراگوا: مذکرات کی ناکامی کے بعد پُرتشدد واقعات میں مزید 8 شہری ہلاک

ماناگوا : نیکارا گوا کی حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذکرات میں ناکامی کے بعد پُرتشدد واقعات میں مزید 8 افراد ہلاک ہوگئے, جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 85 ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق جمہوریہ نکارا گوا میں گذشتہ ماہ سے موجودہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی سماجی سیکیورٹی سسٹم میں تبدیلیوں کے بعد عوامی مظاہروں کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ہفتے اور جمعے کی درمیانی شب مظاہرین اور حکومت کے درمیان مذکرات ناکام ہونے کے بعد احتجاج کرنے والے مزید 8 افراد ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ جمعے اور ہفتے کے روز نیکاراگوا کے ہزاروں شہری صدر اورٹیگا، ان کی زوجہ اور نائب صدر رہساریو کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ حالیہ مظاہروں میں مزید 8 شہریوں کی ہلاکت کے بعد پر حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 85 ہوگئی جبکہ 800 سے زائد شہری زخمی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے ملک میں ہونے والی کرپشن، انتخابی سسٹم اور کانگریس پر صدر کے قابض ہونے کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ہائی وے بند کردیا اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مشتعل مظاہرین کی جانب سے صدر اورٹیگا اور موریلو کے جابرانہ انداز حکومت کے خلاف بھی برہم ہیں اور سڑکوں دونوںں رہنماؤ کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ نیکارا گوا کے کیھتولک چرچ اور سوسل سوسائٹی کی جانب سے مظاہرین اور حکومت کے درمیان تنازعے کو ختم کرنے کی کوشش کی ناکام ہوگئی جس کے بعد مزید 8 افراد لقمہ اجل بن گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ آرگنائزیشن آف امریکن اسٹیٹ کے جنرل سیکریٹری لوئس الماگرو کی جانب سے نیکارا گوا کی حالیہ صورت حال پر جاری بیان میں کہنا تھا کہ نیکارا گوا کی خراب صورتحال کا حل صرف یہ ہے کہ دوبارہ الیکشن کروائے جائے ورنہ صورتحال مزید ابتر ہوتی جائے گی۔


نکاراگوا مظاہرے : پولیس نے درجنوں طلبہ و اساتذہ کورہا کردیا


جمہوریہ نکارا گوا میں حالیہ دنوں موجودہ حکومت کی جانب سے سماجی سیکیورٹی سسٹم میں تبدیلیوں کے بعد عوامی مظاہرے شدت اختیار کرگئے تھے، پولیس نے مظاہرہ کرنے والے درجنوں طلباء و اساتذہ کو رہا کردیا ہے۔

پولیس کی قید سے آزاد ہونے والے کچھ طلبہ نے دعویٰ کیا ہے کہ دوران حراست سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے طلبہ و اساتذہ کو بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ جمہوریہ نکارا گوا میں موجودہ حکومت کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں سے پینشن کی مد میں اضافی رقم کی کٹوتی اور مراعات میں کمی کے خلاف عوام نے گذشتہ ہفتے حکومتی پالیسی کے خلاف پرامن مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔

خیال رہے کہ حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران صحافی سمیت 25 افراد حکومت کے حامیوں اور پولیس کی گولیوں سے ہلاک ہوئے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں