The news is by your side.

Advertisement

ونڈوز فون کیوں ناکام ہوئے؟

ونڈوز فون دنیا کے بڑے ٹیکنالوجی اداروں میں سے ایک مائیکرو سافٹ کا آپریٹنگ سسٹم تھا جسے خاص طور پر اسمارٹ فونز کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن مائیکرو سافٹ کا تمام تر تجربہ، صلاحیتیں، اثر و رسوخ اور سرمایہ کچھ بھی ونڈوز فون کو کامیاب نہیں بنا سکا بلکہ اسے تاریخ میں مائیکرو سافٹ کی سب سے بڑی اور مہنگی ترین غلطی کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔

اسٹیو جابس نے 2007 میں آئی فون متعارف کروا کر دنیا بھر میں ہلچل مچا دی تھی۔ آئی فون سے پہلے اسمارٹ فونز کا بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ان کی اسکرین چھوٹی ہوتی تھی اور انٹرفیس ایسا کہ اسے استعمال کرنا آسان نہیں ہوتا تھا۔ اس کی وجہ تھی فون کے آدھے حصے پر کی بورڈ کا ہونا، وہ بھی اتنے چھوٹے بٹن کہ زیادہ تر لوگوں کے لیے اسے استعمال کرنا آسان نہیں ہوتا تھا۔ اسٹیو جابس نے فل اسکرین اسمارٹ فون متعارف کروا کے گویا بازی ہی پلٹ دی۔

اس وقت گوگل بھی اسمارٹ فون بنانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن آئی فون کو دیکھتے ہی اس نے پرانے تمام منصوبے ترک کرتے ہوئے تمام تر توجہ ٹچ اسکرین ڈیزائن پر مرکوز کر لیں۔ ان کی پروڈکٹ اینڈرائیڈ ایک سال بعد سامنے آئی، تب تک آئی فون اسمارٹ فون مارکیٹ پر چھا چکا تھا۔ آئی فون کا طریقہ کار یہ تھا کہ پروڈکٹ کا معیار اور صارف کا تجربہ، سب ایپل پر منحصر تھا یعنی یہ بالکل مخصوص ڈیوائس تھی اور ایپل اس کی بھاری قیمت بھی وصول کرتا تھا۔

اینڈرائیڈ نے کامیابی کے لیے ایک بالکل مختلف حکمت عملی اپنائی۔ گوگل نے انحصاریت کے بعد سب کو دوست بنانے کی کوشش کی، زیادہ سے زیادہ فون مینوفیکچررز کو ساتھ ملایا اور سستے لیکن کارآمد فونز مارکیٹ میں آئے۔

کچھ عرصے میں اسمارٹ فونز کی دنیا میں ایک توازن آ گیا اور اینڈرائیڈ اور آئی فون نے مارکیٹ کے مختلف حصوں پر اپنے قدم جما لیے۔ تب اس توازن کو بگاڑنے کے لیے ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک بڑا نام سامنے آیا، مائیکرو سافٹ۔

ان تینوں اداروں میں مائیکرو سافٹ موبائل ڈیوائسز کا سب سے زیادہ تجربہ رکھتا تھا۔ بل گیٹس نے 1996 میں ہینڈ ہیلڈ پی سی یعنی دستی پرسنل کمپیوٹر کی رونمائی کی تھی، جو دراصل ایک چھوٹا لیپ ٹاپ تھا۔ اس پر جو آپریٹنگ سسٹم چلتا تھا اسے ونڈوز سی ای کہتے تھے۔ اس کے بعد ایک دہائی تک مائیکرو سافٹ اس میں کئی فیچرز شامل کرتا رہا اور کافی حد تک اسے ایک بہترین پروڈکٹ بنا دیا۔ اس آپریٹنگ سسٹم کے چھ اپڈیٹس آئے: ونڈوز سی ای 2.0، پاکٹ پی سی 2000، پاکٹ پی سی 2002، ونڈوز موبائل 2003، ونڈوز موبائل 5.0 اور ونڈوز موبائل 6.0۔

سال 2006 اور 2008 کے درمیان موبائل ڈیوائسز کے شعبے میں مائیکرو سافٹ کا مارکیٹ شیئر 15 فیصد تھا، جو نوکیا کے سمبیان کو چھوڑ کر دوسرے کسی بھی مقابل ادارے سے زیادہ تھا۔

یہی وہ کامیابی تھی جس نے مائیکرو سافٹ کو اندھا کر دیا تھا اور وہ آئی فون سے درپیش خطرے کو دیکھ ہی نہیں پایا۔ تب مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اسٹیو بالمر تھے، جن سے ایک انٹرویو میں آئی فون کے حوالے سے سوالات کیے گئے تو ان کا رد عمل ناقابل یقین تھا۔ ان کا جواب تھا، 500 ڈالرز؟ یہ تو دنیا کا مہنگا ترین فون ہے اور بزنس کسٹمرز کے لیے اس میں کوئی کشش نہیں کیونکہ اس میں کی بورڈ بھی نہیں ہے۔ یہ ای میل کے لیے ایک اچھی مشین نہیں ہے۔ ہمارا اس سے کوئی مقابلہ نہیں۔ ہم اس وقت کروڑوں کی تعداد میں اپنے فونز فروخت کر رہے ہیں جبکہ ایپل کی فروخت صفر ہے۔”

اندازہ لگا لیں کہ ایک ایسے وقت میں جب مارکیٹ میں انقلاب برپا ہو رہا تھا، مائیکرو سافٹ اپنی ناک سے آگے دیکھنے کو تیار نہیں تھا جبکہ مارکیٹ کے تمام تجزیہ کاروں کو آئی فون سے درپیش خطرات کا واضح اندازہ تھا۔ صرف مائیکرو سافٹ ہی نہیں بلکہ بلیک بیری اور پام کے مالکان بھی نئے آئی فون کے حوالے سے شکوک رکھتے۔

مائیکرو سافٹ کی عقل تب ٹھکانے آئی جب اگلے ایک سال کے دوران اس کی ڈیوائسز کی فروخت میں کمی آئی۔ اس کے مقابلے میں بلیک بیری میں اضافہ ہوا، جس سے اس کو غیر ضروری اعتماد ملا اور پھر ایسا دھچکا پہنچا کہ وہ دوبارہ باہر نہیں نکل پایا۔

بہرحال، مائیکرو سافٹ نے 2008 کے اواخر میں ٹچ اسکرین ڈیوائسز کے لیے کام کا آغاز کیا اور دو سال کے اندر مکمل بھی کر لیا۔ 2010 میں بارسلونا میں موبائل ورلڈ کانگریس میں اسٹیو بالمر نے ہی ایک انوکھی پروڈکٹ کی رونمائی کی، آپریٹنگ سسٹم ونڈوز فون۔

یہ بہترین آپریٹنگ سسٹم تھا بلکہ ایپل کی ٹکر کا تھا۔ لیکن فون مینوفیکچررز کے لیے مائیکرو سافٹ کی شرائط بہت سخت تھیں اور وہ طاقتور ہارڈ ویئر چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی ونڈوز فون اپنے زمانے کے سب سے طاقتور اسمارٹ فونز تھے، مثلاً سام سنگ اومنیا 7 میں اس زمانے میں 1.0 گیگاہرٹز کا پروسیسر تھا، 512 ایم بی کی ریم، 8 سے 16 جی کی اسٹوریج اور 1500 ملی ایمپیئر آورز کی بیٹری تھی۔

لیکن مائیکرو سافٹ ایک دو دھاری تلوار پر چل رہا تھا، ایپل کی نقل کرنا وہ بھی اس طرح کہ صارفین کو بہترین تجربہ بھی ملے اور ہارڈ ویئر پر بھی اس کی سخت گرفت ہو، آسان نہیں تھا کیونکہ وہ ایپل کی طرح اپنے فون خود نہیں بنا رہا تھا۔ اس نے ونڈوز فون کو تو بہت اچھا بنا دیا تھا لیکن وہ مینوفیکچررز پر جتنی گرفت رکھنا چاہتا تھا اس وجہ سے کمپنیوں کے لیے اینڈرائیڈ کے مقابلے میں مائیکرو سافٹ کے ساتھ کام کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ہی عرصے میں زیادہ تر فون مینوفیکچررز گوگل کے پارٹنر بن گئے اور مائیکرو سافٹ کا حال یہ تھا کہ اس کے پاس ایک زبردست پروڈکٹ تھی لیکن کوئی اسے لینے کو تیار نہیں تھا۔

یہاں مائیکرو سافٹ کو ایک موقع ضرور ملا۔ ستمبر 2010 میں نوکیا میں اسٹیفن ایلوپ چیف ایگزیکٹو آفیسر بنے، جو پہلے مائیکرو سافٹ میں کام کر چکے تھے۔ ان کا ہدف تھا نوکیا کے گرتے ہوئے مارکیٹ شیئر کو بہتر بنانا اور سمبیان کی جگہ ونڈوز فون اختیار کرنا۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب پہلے سے طے شدہ تھا کیونکہ ایک بہت بڑا تبدیلی کا عمل بہت تیزی سے ہوا اور نوکیا نے صرف ایک سال کے عرصے میں اپنی تمام پروڈکٹس بدل دیں اور نومبر 2011 سے نوکیا ونڈوز فون بیچنے شروع ہو گیا اور یہ ممکن ہوا ان اربوں ڈالرز کی بدولت جو مائیکرو سافٹ نے نوکیا کو پلیٹ فارم سپورٹ پیمنٹ کے نام پر دیے تھے۔

بلاشبہ نوکیا مائیکرو سافٹ کو لائسنسنگ فیس دے رہا تھا لیکن اسے ہر سہ ماہی میں 250 ملین ڈالرز مل رہے تھے جو اس کے اخراجات سے بھی زیادہ تھے۔ یہ دیکھ کر دوسرے فون مینوفیکچررز مائیکرو سافٹ سے اور دور ہو گئے کہ وہ کیوں مائیکرو سافٹ کے لیے اپنی پروڈکٹ کو بہتر بنائیں اور اسے لائسنسنگ فیس بھی ادا کریں جبکہ نوکیا کو سب کچھ مفت میں مل رہا ہے؟

مائیکرو سافٹ اس حد تک جا چکا تھا کہ یہاں سے واپس آنے کا کوئی راستہ نہیں تھا اور بہت دیر ہو چکی تھی۔ جب تک اس پروڈکشن کے مسائل حل کیے، تب تک آئی فون کو مارکیٹ میں آئے ہوئے چار سال ہو چکے تھے اور مائیکرو سافٹ کا مارکیٹ شیئر گرتے گرتے 2 فیصد پر آ چکا تھا۔ کوئی ونڈوز ایپلی کیشنز بنانے کے لیے تیار نہیں تھا اور بناتا بھی کیوں؟ سب کو آئی او ایس اور اینڈرائیڈ واضح طور پر جیتتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ عالم یہ تھا کہ پہلے تین سال تک ونڈوز فون کا ایپ اسٹور خالی تھا۔ اس پر یوٹیوب تک نہیں تھا۔

سال 2013 تک نوکیا کے شیئرز کی قیمتیں بھی 75 فیصد تک گر چکی تھیں اور شیئر ہولڈرز کا غصہ عروج پر تھا، جن کا مطالبہ تھا کہ اسٹیفن ایلوپ کو نکالا جائے اور مائیکروسافٹ سے جان چھڑائی جائے۔ ایسا تو نہیں ہوا لیکن 2014 میں مائیکرو سافٹ نے نوکیا کا موبائل ڈویژن 7.2 ارب ڈالرز میں خرید لیا اور اگلے ہی سال اپنی سرمایہ کاری منسوخ کر کے نوکیا کے تقریباً 8 ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا۔

مائیکرو سافٹ نے اکتوبر 2017 تک کسی نہ کسی طرح ونڈوز فون کو لائف سپورٹ پر زندہ رکھا، لیکن اس کا خاتمہ تو کہیں پہلے ہو چکا تھا۔

اگر مائیکرو سافٹ ابتدا میں لالچ کا مظاہرہ نہ کرتا اور فون بنانے والے اداروں کو آزادی دیتا، جیسا کہ گوگل نے دی، تو وہ اینڈرائیڈ کے بجائے ونڈوز فون کو اختیار کرتے اور آج شاید داستان کچھ اور ہوتی۔ لیکن ہوا یہ کہ گوگل جس کے پاس تو کچھ نہیں تھا، کامیاب ہو گیا اور مائیکرو سافٹ جو دہائیوں سے سافٹ ویئر کی دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا، اپنے تمام تر روابط، سرمائے اور اثر ورسوخ کے باوجود ناکام ٹھہرا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں