عدلیہ کیخلاف اشتعال انگیزانٹرویو کیس ، سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی پر فرد جرم عائد
The news is by your side.

Advertisement

عدلیہ کیخلاف اشتعال انگیزانٹرویو کیس ، سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی پر فرد جرم عائد

اسلام آباد : عدلیہ کیخلاف اشتعال انگیزانٹرویو کیس میں سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی پرفرد جرم عائد کردی اور گواہ طلب کرلئے جبکہ فیصل عابدی کادوبارہ طبی معائنہ کرانے کا بھی حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عدلیہ کیخلاف اشتغال انگیزانٹرویو کیس میں سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی پرفرد جرم عائد کردی، فیصل رضا عابدی نےصحت جرم سے انکار کر دیا ہے۔

جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہوں کو طلب کر لیا ہے، وکیل نے استدعا کی فیصل رضا عابدی کی طبیعت ناساز ہے ہسپتال منتقل کیا جائے، جس پر عدالت نے فیصل رضا عابدی کا دوبارہ طبی معائنہ کرانے کا حکم دیا اور کہا ضرورت پیش آنے کے بعد منتقلی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

یاد رہے 6 دسمبر کواسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصل رضا عابدی کے طبی معائنے کیلئے پمز انتظامیہ کو ایک ہفتے میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ عدالت میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں فیصلہ کرے گی۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کے خلاف نازیبا الفاظ بولنے کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی کے خلاف 21 ستمبر کو انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اسلام آباد کے تھانہ سیکٹریٹریٹ میں مقدمہ سپریم کورٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا،  پولیس کا کہنا تھا کہ فیصل رضا عابدی نے ایک ٹی وی پروگرام میں چیف جسٹس کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔

مزید پڑھیں: گرفتار فیصل رضا عابدی کوجوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھیجنے کاحکم

فیصل رضا عابدی 10 اکتوبر کو توہین عدالت کیس میں جب سپریم کورٹ میں پیشی کے بعد عدالت سے باہر آئے تو پولیس نے انہیں گرفتار کرکے تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کر دیا تھا۔

بعد ازاں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس کی رپورٹ کے بعد ان کی عبوری ضمانت منسوخ کردی تھی اور فیصل رضا عابدی کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔

خیال رہے کہ فیصل رضا عابدی سنہ 2009 سے 2013 تک پی پی کے سینیٹر رہے۔ اس دوران وہ کئی قائمہ کمیٹیوں کے رکن بھی رہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں