site
stats
سندھ

کراچی کےعوام میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے، فیصل سبزواری

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ کراچی میں آج بھی بدامنی ہے، عوام میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے، انیس ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ مہاجروں کا سب سے زیادہ استحصال بانی ایم کیو ایم نے کیا۔

ان خیالات کا اظہار ان رہنماؤں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی سے خصوصی  گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

فیصل سبزواری نے کہا کہ کراچی کے رہنے والوں کے مسائل حل ہونے چاہئیں، مسائل کے انبار اورعدم تحفظ کے باعث عوام میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔

دیگرشہروں کی طرح کراچی کے مسائل پر بھی توجہ دینی چاہیئے، اس شہر کے مسائل کےحل کیلئے ہم تمام جماعتوں کے پاس گئے۔

ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ کراچی کے حالات اب ایک سال پہلےجیسے نہیں رہے، ہم پاکستان میں بیٹھ کرعدم تشدد کی سیاست نہیں کر رہے، 23اگست کی پالیسی کو آگےلیکر بڑھ رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پی ایس پی سےاتحاد کیلئے ہمارے اوپر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے، ہر محب وطن پاکستانی کیلئے متحدہ پاکستان کے دروازےکھلے ہیں۔

مہاجروں کا استحصال خود بانی ایم کیوایم نے کیا، انیس ایڈووکیٹ

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پی ایس پی کے رہنما انیس ایڈووکیٹ نے کہا کہ مہاجروں کا سب سے زیادہ استحصال خود بانی ایم کیوایم نے کیا، ان کو اس حال تک پہنچانے کا ذمہ داربانی ایم کیوایم ہی ہے، اس نے اپنے مفادات کیلئے مہاجروں کو استعمال کیا۔

انیس ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ہم کافی حد تک بانی ایم کیوایم کو بےنقاب کرچکے ہیں، ضمنی الیکشن میں بانی متحدہ کیخلاف پی ایس پی گراؤنڈ میں موجود رہی لیکن اس کو کہیں نہ کہیں سے آکسیجن مل رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انیس ایڈووکیٹ نے کہا کہ سیاست میں کوئی چیزحرف آخرنہیں ہوتی، ایم کیوایم سے انضمام کی خبروں کی تصدیق ڈاکٹر فاروق ستار ہی کرسکتےہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس پی نے پہلی مرتبہ جامعہ کراچی کی آفیسرز کے انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کی اور آئندہ آنے والے وقت میں پی ایس پی صرف کراچی ہی نہیں پورے سندھ کے عوام کی نمائندگی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری لڑائی بڑے بدمعاش کے خاتمے کی ہے اور ہم نے بڑی حد تک اس بڑے بدمعاش کو ڈھیر بھی کردیا ہے۔

لوگوں کو خوفزدہ کرکے انکے دل تبدیل نہیں ہو سکتے، مصطفیٰ عزیز آبادی

ایم کیو ایم لندن کے رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ایم کیو ایم اپنی ایک تاریخ ہے جو ان کے ساتھ ناانصافیاں ہوئیں جس کے بعد اس کی بنیاد رکھی گئی لیکن اسٹیبلشمنٹ نے ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان کو طاقت کے زور پر دبایا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہناتھا کہ اگر مسائل صرف حکومتوں میں آنے سے حل ہوتے تو قیام پاکستان سے آج تک بلوچستان میں بلوچ وزیر اعلیٰ رہے ہیں لیکن بلوچ آج بھی اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر نفرت اور تعصب کے عینک سے مسائل کو دیکھا جائے گا تو مسائل کا حل نکل نہیں سکتا، ایم کیو ایم کے ٹکڑے کرکے خوشیاں تو منائی جاسکتی ہیں لیکن لوگوں کو خوفزدہ کرکے وقتی طور پر خاموش تو کیا جا سکتا ہے ان کے دلوں کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top