site
stats
سندھ

متحدہ رہنما فیصل سبزواری وطن واپس پہنچ گئے، خواجہ اظہارنے استقبال کیا

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فیصل سبزواری کراچی پہنچ گئے ہیں۔  وہ چھ ماہ سے امریکا میں مقیم تھے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ کے سابق وزیر برائے امورِنوجوانان اور ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فیصل سبزواری جو کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپے کے بعد سے منظرِ عام سے غائب تھے۔

آج چھ ماہ امریکا میں قیام کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں، کراچی ائیر پورٹ پر ان کا استقبال خواجہ اظہار الحسن اوردیگرمتحدہ رہنماؤں نے کیا،

ذرائع کے مطابق فیصل سبزواری پہلے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کی رہائش گاہ پرجا کر ان سے ملاقات کریں گے۔

کراچی ایئرپورٹ پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فیصل سبزواری نے کہا کہ ایم کیو پر برا وقت ہے اسی لئے واپس آیا ہوں، متحدہ قومی موومنٹ اپنے ارتقا کے عمل سے گزر رہی ہے،

انہوں نے کہا کہ اپنے مسائل حل کرکے پہلی فرصت میں وطن واپس آیا ہوں، ہمارا کام ہے کہ اپنی پارٹی کو مضبوط بنا کر شہر کے مسائل حل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ کڑے وقت میں کارکنان کا ساتھ دینے آیا ہوں، ایک صحافی نے ان سوال کیا کہ آپ کو منزل چاہیئے یا رہنما جس پر انہوں نے برجستہ کہا کہ فی الحال گاڑی اورکھانا چاہیئے۔

ایک سوال کے جواب میں فیصل سبزواری نے کہا کہ سیاست کرنا سب کا حق ہے، مصطفیٰ کمال سے میرا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ ایم کیو ایم میں تھا اور ایم کیو ایم میں ہی رہوں گا، کیونکہ شہر کراچی کی نمائندگی ایم کیو ایم کو ہی کرنی ہے۔ ایم کیو ایم کا مستقبل روشن ہے۔

یاد رہے کہ فیصل سبزواری کے متعلق میڈیا میں افواہات گردش کررہی تھیں کہ انہوں نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اختلافات کی بنا پر پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی تھی تاہم فیصل سبزواری کی جانب سے ایساکوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

ایم کیوایم کے منظرعام سے غائب رہنما فیصل سبزواری کا دو ہفتے میں وطن آنے کا اعلان

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بانی ایم کیو ایم نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے فروغ نسیم، فیصل سبزواری اور رؤف صدیقی کو دھوکے باز قرار دیا تھا۔

بعد ازاں ایم پی اے فیصل سبزواری نے صوبائی اسمبلی کی نششت سے مستعفی ہوتے ہوئے اپنا استعفیٰ پارٹی قیادت کو بھجوا دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق رابطہ کمیٹی کی جانب سے فیصل سبزواری کا استعفیٰ منظور نہیں کیا گیا تھا اور یہ امکان بھی ظاہرکیا گیا کہ ان کا استعفیٰ منظورنہ کرتے ہوئے معافی دے دی جائے گی۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top