site
stats
سندھ

شہر میں ٹریفک جام ، فیصل واؤڈا کی شہریوں سے معذرت

کراچی: تحریک انصاف کے رہنما فیصل واؤڈا نے شہریوں سے گزشتہ روز ٹریفک جام کی معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاناما لیکس سمیت کرپشن اور بدعنوانی جمہوری حق ہے اسے جاری رکھوں گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضمانت کے بعد اپنے رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ فیصل واؤڈا کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز شارع فیصل پر احتجاج کے باعث ٹریفک جام ہوا جس کے باعث شہریوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم میرا مقصد عوام کو تنگ کرنا نہیں تھا‘‘۔

پڑھیں: شارع فیصل پر احتجاج، بدترین ٹریفک جام، فیصل وائوڈا گرفتار،لاٹھی چارج

رہنماء تحریک انصاف نے عوام سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ’’میری جانب سے مظاہرین کو سڑک بلاک کرنے کی کوئی کال نہیں دی گئی تھی تاہم نیشنل ہائی وے پر پہلے سے دھرنا جاری تھا جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا‘‘۔

مزید پڑھیں:  فیصل وائوڈا گرفتار: پی ٹی آئی کی مرکزی اور کراچی قیادت میں اختلاف

انہوں نے کہا کہ ’’ایم کیو ایم کے خلاف بہت سارے ثبوت موجود ہیں جو اداروں کو دوں گا اور اسی طرح وفاقی حکومت کی کرپشن پر بھی ثبوت موجود ہیں تاہم ادارے حکومت کے خلاف کارروائی نہیں کرتے اس لیے اُن کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج جاری رکھا جائے گا‘‘۔

خبر پڑھیں: فیصل واؤڈا کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، ایس ایس پی راؤ انوار

اُن کا کہنا تھا کہ ’’گزشتہ روز کا احتجاج پارٹی کی جانب سے نہیں تھا تاہم میں پاکستان کی خاطر کچھ کرنا چاہتا ہوں اس لیے گمشدہ حکومت کے خلاف احتجاج کے لیے باہر نکلا اور اس مسئلے کو عالمی سطح تک بھی لے کر جاؤں گا‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:  فیصل واوڈا کی ضمانت منظوری کے بعد رہائی

فیصل واؤڈا نے مزید کہا کہ ’’تحریک انصاف نہیں چھوڑ رہا اور عمران خان سے ہدایات لیتا رہوں گا مگر چیئرمین کو علم ہے کہ احتجاج کرنا ہمارا جمہوری حق ہے اور ہم اسے جاری رکھیں گے‘‘۔

یاد رہے گزشتہ روز سول سوسائٹی اور دیگر جماعتوں کی جانب سے بلوچ کالونی پُل سے اسٹار گیٹ تک ریلی کا انعقاد کیا گیا تھا، جس کے اختتام پر فیصل واؤڈا نے شرکاء سے خطاب بھی کیا تھا تاہم پروگرام ختم ہوتے ہی ایس ایس پی راؤ انوار وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر کنٹرینر میں داخل ہوئے اور انہیں گرفتار کرکے ائیرپورٹ تھانے میں مقدمہ درج کرلیا۔فیصل واؤڈا کو آج عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں اُن کی شخصی ضمانت ملازم نے لی تھی بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top