The news is by your side.

Advertisement

چوہدری نثار کے ذریعے نوازشریف کو این آر او کی پیش کش کی گئی، فیصل واوڈا

کراچی: تحریک انصاف کے رہنماء فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ نوازشریف کو چوہدری نثار کے ذریعے این آر او کی پیش کش کی گئی۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماء نے کہا کہ نوازشریف اور چوہدری نثار کے مابین آج جو ملاقات ہوئی اُس میں نئے این آر او کی پیش کش سامنے آئی۔

انہوں نے کہا کہ عدالت سے ملزم قرار دیا جانے والا شخص اپنے ساتھ منتخب وزرا کو لے کر عدالت میں پیش ہورہا ہے اور ن لیگ کے وزیر اداروں کو کھلی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں، اس طرزِ عمل سے خطرات مزید بڑھ جائیں گے۔ فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی طرزسیاست تشددوالی ہے، اس لیے انہوں نے شہبازشریف کی جگہ اپنے آدمی کو جماعت کی صدارت دی۔

قمر زمان کائرہ

پیپلزپارٹی کے رہنماء قمر زمان کائرہ نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے 2 ججز نے نوازشریف کو جھوٹ بولنے، اقامہ اور ایف زیڈ ای کمپنی چھپانے پر نکالا گیا، میاں صاحب سمجھتے ہیں کہ پاکستان اُن کی وجہ سے ہے۔

پی پی رہنماء نے کہا کہ میاں صاحب کو اچھی طرح سے معلوم ہے انہیں کیوں نکالاگیا، نوازشریف اور بانی ایم کیو ایم میں کوئی فرق نہیں رہا کیونکہ وہ بھی اب پاکستان مخالف باتیں کررہے ہیں، میاں صاحب اور مسلم لیگ ن کوشش کرے گی کہ اُن کی جماعت کو لندن سے ہی چلایا جائے۔

پڑھیں: سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف ایک بارپھرتوہینِ عدالت کے مرتکب

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ نوازشریف نے ہمیشہ ووٹ کے تقدس کو پامال کر کے اقتدار حاصل کیا، آمر کی نرسری میں پلنے والے میاں صاحب جمہوریت کا مقدمہ نہیں لڑ سکتے

شاہین صہبائی

پروگرام میں امریکا سے شرکت کرنے والے معروف صحافی شاہین صہہائی نے نوازشریف کی وطن واپسی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار نے واضح مؤقف اختیار کیاتھا کہ اگر میاں صاحب واپس نہیں آئیں گے تو وہ بھی نہیں آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا وطن واپس آنے کا مقصد پارٹی کو بچانا ہے کیونکہ مسلم لیگ ن میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئیں تھیں، نوازشریف کوخود مجھےکیوں نکالاکاجواب معلوم ہے، مرکز، پنجاب حکومت کےتمام وسائل نوازشریف کی مٹھی میں ہیں۔

ویڈیو دیکھیں


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں