اسلام آباد : سینیٹر فیصل واوڈا نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی جلد پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آئے گی ، انھوں نے کمیٹیوں سے استعفے دیے مگر مراعات استعمال کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹر فیصل واوڈا نے اے آر وائی کے پروگرام "اعتراض ہے” میں گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کی۔
فیصل واوڈا نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی تکلیف کے حوالے سے کہا کہ 2 دسمبر 2025 کو جب عظمیٰ بی بی نے بانی سے ملاقات کی تھی، تو اس وقت آنکھ کی تکلیف کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ 20 دسمبر کو توشہ خانہ کیس ٹو کے فیصلے کے وقت بھی یہ معاملہ سامنے نہیں آیا۔
بانی پی ٹی آئی کی جانب سے 15 فیصد بینائی رہ جانے کے دعوے پر سینیٹر واوڈا نے کہا کہ "وہ شاید ٹھیک کہہ رہے ہوں، لیکن اصل صورتحال ڈاکٹرز اور میڈیکل رپورٹ ہی واضح کرے گی۔”
انہوں نے اعتراف کیا کہ بانی کو پمز اسپتال منتقل کرنے کے معاملے پر حکومت کی ہینڈلنگ درست نہیں تھی، اگر پہلے بتا دیا جاتا تو بہتر ہوتا، تاہم اب ان کا باقاعدہ علاج شروع ہو چکا ہے۔
فیصل واوڈا نے تحریک انصاف کے احتجاج اور استعفوں کو "جمہوری ڈرامہ” قرار دیتے ہوئے کہا پی ٹی آئی نے پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفے تو دے رکھے ہیں، لیکن ان کے ارکان اب بھی سرکاری گاڑیاں اور نوکر چاکر استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے پیشگوئی کی کہ پی ٹی آئی جلد ہی ان کمیٹیوں میں واپس آ جائے گی۔
احتجاج کی ناکامی پر ان کا کہنا تھا کہ علی محمد خان کی تقریر کے دوران دکانیں کھلی تھیں اور محمود اچکزئی خود گاڑی پر کنونشن پہنچے جبکہ پہیہ جام کی کال دی گئی تھی۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے سینیٹر خرم کو ان کی اپنی ہی پولیس نے احتجاج سے روکا۔
واوڈا نے طنز کیا کہ ایک طرف احتجاج کی کال دی گئی تو دوسری طرف علیمہ خانم کے بچوں نے بسنت منائی اور پتنگیں اڑائیں۔
ملکی نظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا "پاکستان میں اسکول، کالج، اسپتال سے لے کر آٹا، چینی اور بسکٹ تک سب پر اشرافیہ کا قبضہ ہے۔ سیاست اور سلطنت کے لیے تو باپ بیٹے کو بھی مار دیتا ہے۔”
فیصل واوڈا نے کہا کہ "بانی پی ٹی آئی جب تک جیل میں ہیں، ان کی پارٹی اقتدار میں ہے، جس دن وہ باہر آئے، پارٹی کے موجودہ لوگ ہٹا دیے جائیں گے۔”
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


