اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ 27ویں ترمیم آبھی رہی ہے اور پاس بھی ہورہی ہے۔
پروگرام ’خبر‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لیے 27ویں ترمیم آگئی ہے جو ضروری ہے اور پاس بھی بڑی آسانی سے ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ قانون بنانا پارلیمان کا کام ہے ضرورت ہوتی تو قانون سازی بھی ہوگی، میری نظر میں بلاول بھٹو نے اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے ٹوئٹ کیا ہے، بلاول بھٹو نے بند کمروں والی بات نہیں کی سب عوام کے سامنے رکھ دیا ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ماحول اچھا ہوگیا ہے جو پاکستان کے لیے بہتر ہے وہ کرتے ہیں۔
سینیٹر نے کہا کہ پاکستان میں ڈنکے کی چوٹ پر کام ہوتے ہیں یا چوٹ سے ہوتے ہیں، بلاول بھٹو جمہوریت شخصیت ہیں اور اس جمہوریت کے ضامن بھی ہیں، آصف زرداری سیاسی سطرنج کے بڑے کھلاڑی ہیں۔
یہ پڑھیں: 27 ویں آئینی ترمیم کب پیش کی جا رہی ہے؟ وفاقی وزیر نے بتا دیا
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ وفاقی حکومت قرضے لے اور بھکاریوں کی طرح ادا کرتی رہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ قرضہ لے کر صوبائی حکومتوں کو دیا جاتا رہے، میری نظر میں سیکیورٹی بھی اہم ہے جو وفاق کے ماتحت ہونا چاہیے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ شاہ محمود قریشی تکنیکی طور پر بے گناہ ہیں لیکن مقبولیت میں پیچھے رہ گئے ہیں، پی ٹی آئی کو وہ تنہا نہیں چلا سکتے، جماعت میں اور بھی اچھے لوگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا علی امین گنڈاپور کو عمران خان ہی ہٹائیں گے اور حکومت ان کو سپورٹ کرے گی۔
سینیٹر نے کہا کہ اب بدمعاشی کے موڈ میں آئیں گے تو پھینٹا بھی لگے گا اور پابندی کی طرف جائیں گے، یہ نہیں ہوسکتا کہ 12 ہزار ایکڑ پر افیون کی فصل بھی ہوگی اور احتجاج بھی ہوگا۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاست کا نام ہی بات چیت اور راستہ نکالنا ہے، بات چیت سے ہٹ کر چلیں گے تو عمراان خان اور تنہائی میں چلے جائیں گے، 25 نومبر کو پی ٹی آئی اسلام آباد آئے گی تو پھر پابندی لگے گی، گورنر راج لگ سکتا ہے۔


