اسلام آباد : سینیٹر فیصل واوڈا نے گاڑیوں کی مقامی تیاری میں 100 ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف کرتے ہوئے آٹو پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں میں سینیٹر فیصل واوڈا نے انکشاف کیا کہ ملک میں گاڑیوں کی مقامی تیاری کے نام پر 100 ارب روپے کی کرپشن کی جا رہی ہے اور چند کمپنیوں کی اجارہ داری قائم ہے۔
اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے وزارتِ صنعت و پیداوار کی آٹو پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہملک میں گاڑیوں کے شعبے پر صرف 4 کمپنیوں کی اجارہ داری قائم ہے اور موجودہ آٹو پالیسی میں سیکریٹری صنعت کسی کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔
سینیٹر واوڈا کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ سرکاری پالیسی کو دیکھ کر صاف لگتا ہے کہ اسے کسی مخصوص کمپنی کو ناجائز فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
انھوں نے اجلاس میں سوال اٹھایا کہ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ بورڈ کو آخر کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ خود سے گاڑیوں کے سیفٹی اسٹینڈرڈز (حفاظتی معیار) بناتا پھرے؟
انہوں نے انکشاف کیا کہ خود وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے تحریری طور پر لکھا ہے کہ گاڑیوں کی پالیسی کے معاملے میں انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے پاس ایسا کوئی اختیار ہی موجود نہیں۔
اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی کے سامنے سیکریٹری کامرس نے کمیٹی کو بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارتِ صنعت و پیداوار کو باقاعدہ یہ اختیار تفویض کر رکھا ہے کہ وہ اس حوالے سے رولز اور قوانین وضع کرے۔
سیکریٹری سائنس و ٹیکنالوجی نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ان کی وزارت نے بھی ملک میں گاڑیوں کی معیاری اور محفوظ تیاری کو یقینی بنانے کے لیے 36 سیکیورٹی اسٹینڈرڈز (حفاظتی معیار) تیار کر رکھے ہیں۔
قائمہ کمیٹی نے معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے آٹو پالیسی اور سیفٹی اسٹینڈرڈز کے حوالے سے مزید تفصیلات طلب کر لی ہیں۔


