اسلام آباد : سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ دنیا میں امن کا نوبل انعام صدر ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل کو ملنا چاہئے۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹر فیصل واوڈا نے ملک میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن، کابینہ کے فیصلوں اور وزارتوں کی کارکردگی کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ملک کا ڈیڑھ سو ارب روپے کا نقصان بچا لیا ہے اور وہ اب تک 55 ارب روپے کی زمینیں بھی واپس کروا چکے ہیں، آج تک کوئی ملک کے 200 ارب روپے واپس نہیں لایا، ویسے تو مجھے کوئی اتنی رقم دے تو میں خرچ کر کے دکھا دوں۔
ای سی سی اور کابینہ کے فیصلوں پر بات کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ ای سی سی کی صدارت کرتے ہیں اور تمام کوششیں تھیں کہ وزیر خزانہ کے گلے میں گھنٹی باندھی جائے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ای سی سی نے ایک مخصوص مینڈیٹ دیا تھا جس کے تحت صرف 4 چیزوں کو دیکھا جا سکتا تھا، لیکن وہ اس مینڈیٹ کو 400 چیزوں تک لے گئے اور کہا کہ پالیسیاں اور رجسٹریشن بھی ہم کریں گے جس سے پورٹ کا بھٹہ بیٹھ جاتا اور عوام کا سوا سو ارب روپے کا نقصان ہوتا۔
فیصل واوڈا نے بتایا کہ کابینہ میں اس معاملے پر شدید گرما گرمی ہوئی، وزراء سمری مانگتے رہے لیکن سمری چھپا کر رکھی گئی اور لائی ہی نہیں گئی اور آخر میں وزیر نے اپنی غلطی تسلیم کر لی اور سب نے مانا کہ یہ انڈسٹری یا ای ڈی پی کی ڈومین ہی نہیں تھی۔
سینیٹر واوڈا نے حکومت اور بیوروکریسی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگلاکرپشن اسکینڈل لےکرآرہاہوں، میں نے ڈھائی ماہ سے اس اسکینڈل کی دم پر پاؤں رکھا ہوا ہے، اب تک 8 غلطیاں ہو چکی ہیں، بس 2 مزید غلطیوں کا انتظار کر رہا ہوں جس کے بعد یہ اسکینڈل عوام کے سامنے لاؤں گا۔”
وزیراعظم کی تبدیلی کے افواہوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے وزیراعظم کی تبدیلی سے متعلق کوئی بات نہیں کی، البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔
فیصل واوڈا نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے حالیہ امن معاہدے کا کریڈٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو دیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ دنیا میں امن قائم کرنے کی ان مخلصانہ کوششوں پر صدر ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو مشترکہ طور پر "امن کا نوبل انعام” ملنا چاہیے۔


