The news is by your side.

Advertisement

فیض زنداں میں تھے جب “دستِ صبا” آئی تھی!

یہ 1952ء کی ایک ایسی تقریب کا تذکرہ ہے جو اردو زبان کے نام وَر شاعر فیض احمد فیض کے شعری مجموعے دستِ صبا کا تعارف اور اشاعت کی تشہیر کے لیے منعقد کی گئی تھی۔

اس زمانے میں آج کی طرح کتابوں کی اشاعت کے بعد ان کی تقریبِ رونمائی یا تعارف کے لیے یوں‌ پنڈال نہیں سجایا جاتا تھا، لیکن فیض‌ صاحب ان دنوں راولپنڈی سازش کیس میں‌ قید تھے اور ان کی شاعری عوام میں مقبول ہورہی تھی۔ ایسے میں‌ جب دستِ صبا کی اشاعت ہوئی تو احباب نے اس کے لیے تعارفی تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا اور فیض کے انقلاب آفریں‌ طرزِ بیاں کو سنجیدہ و باشعور طبقے سے لے کر عام آدمی تک پہنچانے کے لیے صحافیوں اور دانش وروں‌ کو مدعو کیا۔

یہ پریس کانفرنس 22 دسمبر کو لاہور میں مال روڈ کے ایک ریسٹورنٹ ارجنٹینا میں منعقد ہوئی تھی۔ اس پریس کانفرنس میں چند اخبار نویس اور دانش وَر مدعو کیے گئے تھے۔ تقریب کی صدارت عبدالرحمٰن چغتائی نے کی تھی۔ احمد ندیم قاسمی نے مضمون پڑھا تھا۔ ایلس فیض، سلیمہ ہاشمی نے حاضرین کو کتاب پیش کی تھی۔ یہ پاکستان میں کسی کتاب کی اوّلین تعارفی تقریب تھی۔

دست صبا کا یہ پہلا ایڈیشن دو ہزار کی تعداد میں چھپا تھا۔ اس کا سرورق نام ور مصور جناب عبدالرحمن چغتائی نے بنایا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں