The news is by your side.

Advertisement

فیض احمد فیض کو ہم سے بچھڑے31برس بیت گئے

اردوزبان کے نامور شاعر، ادیب، صحافی اور انقلاب کے داعی فیض احمد فیض کو ہم سے بچھڑے اکتیس برس گزر گئے.

اپنے الفاظ کو محبت کے موتیوں میں پرو دینے والے شاعر فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے وہ علامہ اقبال اور مرزا غالب کے بعد اردو ادب کے عظیم شاعر تھے.

آپ نے ابتدائی مذہبی تعلیم مولوی محمد ابراہیم میر سیالکوٹی سے حاصل کی، بعد ازاں 1921 میں آپ نے اسکاچ مشن سکول سیالکوٹ میں داخلہ لیا، آپ نے میٹرک کا امتحان مرے سکول سیالکوٹ سے پاس کیا اور پھر ایف اے کا امتحان بھی وہیں سے پاس کیا ۔ آپ کے اساتذہ میں میر مولوی شمس الحق ( جو علامہ اقبال کے بھی استاد تھے) بھی شامل تھے، آپ نے فارسی اور عربی زبان سیکھی، آپ نے بی اے آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا اور پھر وہیں سے 1932 میں انگلش میں ایم اے کیا۔ بعد میں اورینٹل کالج لاہور سے عربی میں بھی ایم اے کیا۔

انہوں نے 1935 میں آپ نے ایم اے او کالج امرتسر میں لیکچرر کی حیثیت سے ملازمت کی۔ اور 1941ء میں ایلس فیض سے شادی کی اور فوج میں کیپٹن کی حیثیت سے شامل ہوگئے اور محکمہ تعلقات عامہ میں کام کیا، 1946 میں آپ فوج سے مستعفی ہو کر واپس لاہور آگے اور قیام پاکستان کے بعد 1947 سے 1958 تک پاکستان ٹائمز، امروز اور ہفت روزہ لیل و نہار کے مدیر اعلیٰ رہے۔

مارچ نو 1951 میں آپ كو راولپنڈی سازش كیس میں معاونت كے الزام میں حكومت وقت نے گرفتار كر لیا۔ آپ نے چارسال سرگودھا، ساھیوال، حیدر آباد اور كراچی كی جیل میں گزارے۔ آپ كو 2 اپریل 1955 كو رہا كر دیا گیا، زنداں نامہ كی بیشتر نظمیں اسی عرصہ میں لكھی گئیں۔

فیض احمد فیض کی شاعری میں نقش فریادی، دست سبا، نسخہ ہائے وفا، زنداں نامہ، دست تہہ سنگ، سر وادی سینا، میرے دل میرے مسافر اور دیگر قابل ذکر ہیں ان مجموعہ جات کے انگلش، فارسی، روسی، جرمن اور دیگر زبانوں میں تراجم شائع ہو چکے ہیں۔

فیض احمد فیض ایشیاء کے وہ پہلے شاعر تھے جنہیں روس کی جانب سے لینن امن ایوارڈ سے نوازا گیا ان کی وفات سے قبل انہیں نوبل پرائز کیلئے بھی منتخب کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں انہیں بیش بہا ملکی و غیر ملکی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے.

فیض احمد فیض کے بلاشبہ لاکھوں مداح اندرون و بیرون ملک موجود ہیں، فیض احمد فیض اردو ادب کے وہ عظیم شاعر تھے، جنہوں نے اپنی شاعری میں محبت، خوبصورتی اور سیاسی تصورات کو نہایت مہارت سے یکجا کر دیا تھا، انہوں نے اپنی عمدہ، نفیس، پرلطف اور سنجیدہ سوچ پر مشتمل شاعری کی بدولت دنیا کو اپنا گرویدہ بنالیا.

فیض احمد فیض کی فلمی انڈسٹری کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں، ان کا کلام محمد رفیع، ملکہ ترنم نور جہاں، مہدی حسن، آشا بھوسلے اور جگجیت سنگھ جیسے گلوکاروں کی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا۔

فیض احمد فیض نے درجنوں فلموں کیلئے غزلیں، گیت اور مکالمے لکھے۔ فیض احمد فیض 20 نومبر 1984 کو 73 برس کی عمر میں انتقال کر گئے.
لاہور ہی میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

حکومت پاکستان نے ان کے انتقال کے بعد انہیں نشان امتیاز کے اعزاز سے سرفراز کیا تھا۔

وہ بات جسکا سارے فسانے میں ذکر تک نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں