آج فیض احمد فیض کے مداح ان کا 105واں یوم پیدائش منارہے ہیں -
The news is by your side.

Advertisement

آج فیض احمد فیض کے مداح ان کا 105واں یوم پیدائش منارہے ہیں

جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں
علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں

فیض احمد فیض کا شماراردو کےعظیم شعراء میں ہوتا ہے، آپ 1911 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، آپ کا نام فیض احمد اور تخلص فیض تھا۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم آبائی شہر سے ہی حاصل کی، اس کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی میں ایم اے اور اورینٹل کالج سے عربی میں بھی ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

انیس سو تیس میں لیکچرار کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا۔ اس کے کچھ عرصے بعد آپ برٹش آرمی میں بطورکپتان شامل ہوگئے اور محکمہ تعلقات عامہ میں فرائض انجام دیئے۔فیض نے لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک پہنچ کرفوج کوخیرباد کہا اوراس کے بعد وہ واپس شعبہِ تعلیم سے منسلک ہوگئے۔

فیض نے قلم کاری کا آغازشاعری سے کیا اوراردواورپنجابی میں شاعری کی، بعد میں وہ صحافت سے منسلک ہوگئے، فیض احمد فیض اردو ادب میں ایک ایسا ممتاز نام ہیں، جنہوں نے سیاسی اورسماجی مسائل ک مختلف احساسات سے جوڑتے ہوئے یادگاررومانوی گیتوں کا حصہ بنا دیا۔

ہم نے جو طرزِ فغاں کی ہے قفس میں ایجاد​
فیض گلشن میں وہی طرزِ بیاں ٹھہری ہے​

فیض احمد فیض کی تخلیقات میں نقش فریادی، دست صبا، نسخہ ہائے وفا، زندان نامہ، دست تہہ سنگ، سروادی سینا، مرے دل مرے مسافرسمیت درجنوں شعری مجموعے اور تصانیف شامل ہیں۔ ان کے ادبی مجموعوں کا انگریزی ، فارسی، روسی ، جرمن اوردیگر زبانوں میں بھی ترجمہ کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے ادبی صورتحال اور ملکی حالات پر مضامین بھی تحریر کئے، جو بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ فیض احمد فیض شروع سے ہی انقلابی ذہن کے حامل تھے، وہ ایک طویل عرصے تک انجمنِ ترقی پسند مصنفین کے سرگرم رکن رہے اورآمریت اورظلم کے خلاف قلمی جہاد کے ساتھ ساتھ عملی کرداربھی ادا کیا۔

گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گرجیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں

فیض احمد فیض کی اعلیٰ ادبی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں ملک کا سب سے بڑا سول ایوارڈ نشانِ امتیازاورسوویت یونین کی جانب سے لینن پرائزعطا کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں نگارایوارڈ اورپاکستان ہیومن رائٹس سوسائٹی کی طرف سے امن انعام سے بھی نوازا گیا۔

ان کے اشعار کی انقلاب آفرینی آج بھی جذبوں کو جلا بخشنے کا ذریعہ ہے۔ فیض نے شخصی آزادی اور حقوق کی آواز کچھ اس طرح بلند کی کہ وہ سب کی آواز بن گئی ، فیض نوبل پرائز کے لیے بھی منتخب ہوئے۔

فیض احمد فیض مارچ انیس سواکیاون میں راولپنڈی سازش كیس میں گرفتار بھی ہوئے، آپ نے چارسال سرگودھا، ساھیوال، حیدرآباد اور كراچی كی جیل میں گزارے۔ آپ كو 2 اپریل 1955 كو رہا كر دیا گیا ، زنداں نامہ كی بیشتر نظمیں اسی عرصہ میں لكھی گئیں۔

زنداں نامہ كی بیشتر نظمیں اسی عرصہ میں لكھی گئیں، وہ بیس نومبر انیس سو چوراسی کو تہتر برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے اورلاہور میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

جو رُکے تو کوہ گراں تھے ہم
جو چلے تو جاں سے گزر گئے

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں