The news is by your side.

فیض احمد فیض: ریڈیو کا لائسنس اور ہیئر کٹنگ سیلون

فیض‌ کا تذکرہ اردو ادب میں ایک سخن گو کی حیثیت سے اس طرح نہیں ہوتا جیسا کہ عام شعرا اور خود فیض کے ہم عصروں کا ہوا۔ فیض احمد فیض اپنی شخصیت اور انقلابی نظریات کے سبب پہچانے گئے اور پاکستان کے ممتاز گلوکاروں کی آواز میں ان کا کلام مقبول ہوا۔

آج ترقیّ پسند ادب اور انقلاب آفریں تخلیقات کی بدولت دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنے والے اس شاعر کی برسی ہے۔ وہ 1984ء میں انتقال کرگئے تھے۔ یہاں ہم فیض صاحب کی زندگی کے یہ دو واقعات آپ کے لیے پیش کررہے ہیں۔

مرزا ظفرالحسن اردو کے ممتاز ادیب تھے جنھوں نے ایک واقعہ بیان کیا: برصغیر کی تقسیم سے پہلے کا ذکر ہے۔ اردو کے مایہ ناز شاعر فیض احمد فیضؔ نے اپنے گھر میں ریڈیو تو رکھ لیا تھا مگر نہ اس کا لائسنس بنوایا تھا، نہ فیس ادا کی تھی۔ اس الزام کے تحت انھیں سول عدالت میں طلب کرلیا گیا۔ پیشی کے دن فیضؔ عدالت میں پہنچے۔

مجسٹریٹ فیضؔ کو اپنے کمرے میں لے گیا اور بڑی عاجزی سے بولا ‘‘فیض صاحب! میری بیوی کو آپ کی نظم مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ، بہت پسند ہے، وہ مجھے بار بار طعنے دیتی ہے کہ تم ہمیں شاعر سے اس کی ایک نظم بھی نہیں سنواسکتے، خدا رکھے آپ کے بلا لائسنس ریڈیو کو، اس کے طفیل مجھے آپ سے یہ عرض کرنے کا موقع مل گیا۔ ’’

اس کا کہنا تھا کہ ‘‘آپ نے ریڈیو کا لائسنس نہ بنواکر مقدمے کا نہیں بلکہ مجھے ملاقات کا اور میری گزارش سننے کا موقع فراہم کیا ہے، اگر آپ کل شام کی چائے میرے غریب خانے پر پییں اور اپنا کلام، بالخصوص پہلی سی محبت والی نظم میری بیوی کو سنائیں تو اس کی دیرینہ آرزو پوری ہوجائے گی۔’’

فیضؔ نے جواب میں کہا کہ ‘‘آپ سمن کے بغیر بھی بلاتے تو میں حاضر ہوجاتا اور نظم سناتا، میں کل شام ضرور آؤں گا۔’’

اس کے بعد فیض نے مجسٹریٹ سے پوچھا۔ ‘‘محض بے پروائی میں مجھ سے جو جرم سرزد ہوا ہے آپ نے اس کی کیا سزا تجویز کی ہے؟’’

راوی کے مطابق مجسٹریٹ کا جواب تھا کہ ‘‘فیضؔ صاحب! ماضی میں اگر آپ نے اس کے علاوہ بھی کچھ جرم کیے ہیں تو ان سب کی معافی کے لیے یہ ایک نظم ہی کافی ہے۔ ریڈیو کا لائسنس بنوا لیجیے بس یہی آپ کی سزا ہے۔’’

احمد ندیم قاسمی بھی فیض صاحب کے قریبی اور بے تکلف دوستوں میں شامل تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب ”میرے ہم سفر“ میں یہ دل چسپ واقعہ لکھا ہے:

ایک دن فیض صاحب مجھے اپنی گاڑی میں عبدالرحمٰن چغتائی صاحب کے ہاں لے جارہے تھے۔

نسبت روڈ پر سے گزرے تو انھیں سڑک کے کنارے ”قاسمی پریس“ کا ایک بڑا سا بورڈ دکھائی دیا۔ مجھے معلوم نہیں یہ کن صاحب کا پریس تھا، مگر بہرحال، قاسمی پریس کا بورڈ موجود تھا۔

فیض صاحب کہنے لگے، ”آپ چپکے چپکے اتنا بڑا کاروبار چلا رہے ہیں؟“ اس پر ہم دونوں ہنسے، تھوڑا آگے گئے تو میو اسپتال کے قریب مجھے ایک بورڈ نظر آیا۔

میں نے کہا، ”فیض صاحب! کاروبار تو آپ نے بھی خوب پھیلا رکھا ہے، وہ بورڈ دیکھیے۔“

بورڈ پر فیض ہیئر کٹنگ سیلون کے الفاظ درج تھے۔

فیض صاحب اتنا ہنسے کہ انھیں کار سڑک کے ایک طرف روک لینا پڑی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں