اسلام آباد: سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کے خلاف کیخلاف آمدن سے زائداثاثہ جات کی انکوائری کا آغاز کردیا گیا۔
اسلام آباد میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی کے خلاف کرپشن کیس اور آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔
ذرائعنے بتایا کہ یہ انکوائری ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل نے شروع کی ہے اور نجف حمید کے بینک اکاؤنٹس اور تمام متعلقہ اداروں سے تفصیلات طلب کی جا چکی ہیں۔
نجف حمید کا نام پی آئی این ایل میں بھی شامل کر دیا گیا ہے جبکہ ایف آئی اے نے نجف حمید کی گرفتاری کے لیے چھاپے بھی مارے۔
واضح رہے کہ نجف حمید کی زمین سے متعلق اسکینڈل میں پہلے ہی عبوری ضمانت منسوخ ہو چکی ہے، جس کے بعد ایف آئی اے کی کارروائی میں تیزی آ گئی ہے۔
یاد رہے فراڈ کیس میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت منسوخ کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ ملزم کو ضمانت کی سہولت ملنے کی صورت میں فرار ہونے یا شواہد پر اثر انداز ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق نجف حمید، جو 2009 اور 2010 کے دوران موضع پنڈ پریاں، اسلام آباد میں حلقہ پٹواری کے طور پر تعینات تھے، پر الزام ہے کہ انہوں نے دیگر سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ملی بھگت کر کے جعلی اور بوگس اراضی رجسٹری اور انتقالات جاری کیے، جس سے اصل زمین مالکان کے قانونی حقوق متاثر ہوئے۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ملزم ایک سرکاری ملازم تھا جس نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ریکارڈ میں جعلی اندراجات کیے، جبکہ متعلقہ زمین کا ریکارڈ اس کی تحویل میں تھا۔ عدالت کے مطابق بظاہر یہ اقدامات ذاتی مفاد کے لیے کیے گئے۔
تحریری فیصلے میں یہ بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ نجف حمید کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت انکوائری نمبر 16/26 بھی زیرِ التوا ہے، جس میں منی لانڈرنگ کے الزامات شامل ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ایسے حالات میں ملزم کو ضمانت پر رہا رکھنا تفتیش پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل اسلام آباد نے نجف حمید کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، جس میں عبدالظہور اور خالد منیر کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمہ جعلی دستاویزات کے ذریعے زمین کی منتقلی سے متعلق ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


